حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال

by Other Authors

Page 10 of 31

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 10

تو بے شک سب نمیسوں کا جاننے والا ہے۔میں نے ان کو اس بات کے سوا حبس کا تو نے مجھ کو حکم دیا تھا اور کچھ نہیں کہا۔اور وہ یہ کہ عبادت کرو اس کی جو میرا اور تمہارا دونوں کا پرور دگار ہے اور میں ان پر نگران رہا۔جب تک کہ میں ان کے درمیان رہا۔لیکن اسے خُدا! جب تو نے مجھے وفات دیدی تو پھر تو تو ہی ان کو دیکھنے والا تھا۔اور تو ہر ایک چیز پر نگران ہے؟ یہ آیت مسیح کی وفات پر دلیل کا ایک سورج چڑھا دیتی ہے۔یہاں مسیح صرف دو زمانوں کا ذکر کرتے ہیں۔پہلا زمانہ وہ جس میں سیٹ ان کے اندر موجود تھے۔اور دوسرا زمانہ وفات کے بعد کا زمانہ میسیج کہتے ہیں کہ میری قوم میں شرک کا دور میری وفات کے بعد شروع ہوا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی کئی صدیوں سے شرک میں گرفتار چلے آتے ہیں۔اور مسیح اقرار کرتے ہیں کہ شرک میری وفات کے بعد شروع ہوا۔پس معلوم ہوا کہ مسیحی مدت سے وفات پاچکے ہیں۔دوسرا استدلال یہ ہے کہ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ مسیح اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں، اور آخری زمانہ میں قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہونگے تو لا محالہ وہ سب عیسائیوں کا شرک اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور اپنی امت کے بگاڑ سے پورسے واقف ہو جائیں گے اور انہیں معلوم ہو جائے گا۔کہ میری اُمت مجھ کو خُدا بنا رہی ہے تو اس صورت میں وہ کس طرح اپنی نا واقفیت کا اظہار کر سکتے ہیں۔یقین مسیح کی طرف سے یہ نعوذ باللہ ایک غلط بیانی ہوگی۔اگر وہ باوجود علم رکھنے کے پھر لاعلمی کا اظہار کریں حدیث میں اس آیت کی تفسیر حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ لوگ جہنم کی طرفت چلائے جائیں گے۔حضور فرماتے ہیں میں ان کو دیکھ کر چلا اٹھوں گا " أَصَيْحَانِي - أَصَيْحَابِی " یہ تو میرے صحابہ ہیں۔یہ تو میر سے صحابہ ہیں۔اس پر فرشتے کہیں گے:۔