حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال

by Other Authors

Page 12 of 31

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 12

4 i ۱۲ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔الَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ لِفَاتَاهُ اَحْيَاء وَأَمْوَاتَاهُ السلات : ۲۶۲)۔یعنی ہم نے اس زمین کو ایسا بنایا ہے کہ وہ زندوں اور مردوں کو اپنے پاس رکھنے والی ہے۔اس آیت نے گویا پہلی آیت کی تشریح کر دی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے زمین کے اندر یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ نہ ندوں اور مردوں کو اپنے ساتھ لگائے رکھتی ہے اور انسانی جسم کو باہر نہیں جانے دیتی یہ آیت بھی مسیح کے آسمان پر جانے کو غلط ثابت کر رہی ہے۔ساتویں آیت : جب کفار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر آپ سچے رسول ہیں تو ہمیں آسمان پر پڑھ کر دکھائیں پھر ہم مان لیں گے۔تو اس کے جواب میں اللہ تعالٰی نے آپ کو حکم دیا کہ اے رسول تو ان کو جواب دے :- قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا وَسُوْلاً ربنی اسرائیل غا آیت : ۹۴) یعنی پاک ہے میرا رب میں تو صرف ایک انسان رسول ہوں۔استدلال : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے کہ ایک بشر کا زندہ آسمان پر جانا خُدا کی سنت اور وعدہ کے خلاف ہے اور خُدا اس بات سے پاک ہے کہ خود اپنے فیصلوں کو توڑ سے نور کا مقام ہے کہ کفار عرب نبی کریم صلی اللہ علی وسلم جیسے عظیم الشان انسان سے آسمان پر جانے کا معجزہ طلب کرتے ہیں اور اس قسم کا معجزہ دیکھنے پر ایمان لانے کا وعدہ کرتے ہیں بیکن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صاف جواب دیتے ہیں کہ میں تو صرف ایک بشر ہوں اور کوئی بشر آسمان پر زندہ نہیں جاسکتا۔اس آیت کے ہوتے ہوئے اگر ایک عیسائی اس بات کے کہنے کی جرائت کرے تو کر سے کر مسیح آسمان پر چلا گیا۔مگر ایک مسلمان کہلانے والا انسان جو ٹیم کو ایک انسان اور