حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 11
" آپ نہیں جانتے یہ لوگ تو آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل پھر گئے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پیش کرئیں وہی کہوں گا جو ایک نیک بندے عیسی بن مریم نے کہا : - كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ : له یعنی جب تک میں ان کے درمیان رہا ئیں ان کی نگرانی کہ تارہا۔لیکن جب اے خُدا تو نے مجھ کو وفات دے دی تو پھر تو ہی ان کو دیکھنے والا تھا۔دیکھئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی الفاظ اپنے متعلق استعمال کئے جو حضرت عیسی نے کئے تھے۔اب یہ ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آسمان پر نہیں اُٹھائے گئے۔بلکہ موت نے ہی آپ کو اپنے متبعین سے الگ کیا تھا۔یہی معنے عیسی کے متعلق لینے چاہئیں۔چھٹی آیت : - قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے فرماتا ہے :۔فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوتُونَ : (الاعراف رکوع ۲ آیت : ۲۶) ترجمہ :۔تم اپنی زندگی کے دن زمین پر ہی کاٹو گے اور زمین پر ہی تمہیں موت آئیگی " استدلال : اس آیت میں اللہ تعالیٰ وضاحت کے ساتھ فرماتا ہے کہ انسانوں کے لئے یہ مقدر ہو چکا ہے کہ وہ زمین پر ہی زندگی کے دن گزاریں گے اور زندگی کے دن گزارنے کے بعد جب موت کا وقت آئے گا تو ان کی موت بھی زمین پر ہی ہو گی۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسی با وجود ایک انسان ہونے کے کس طرح مجسم عنصری آسمان پر جا بیٹھے کیا سی کو زندہ آسمان پر پہنچاتے ہوئے (نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ اپنے اس فیصلہ کو بھول گیا۔1- ما ه - الصحيح البخاري الجز الثاني كتاب التقصير باب قول ما جعل الله من بحيرة ولا سابئة -