واقعات صحیحہ — Page 22
۲۲ کریں اور نہ اتنا بھروسہ خدا پر ہے کہ خدا ان کی دعا قبول کرے جیسا کہ ان کے مرید اشتہار دے چکے ہیں اس واسطے انہوں نے سوچا کہ اگر ہم تفسیر میں مقابلہ منظور کر لیں گے تو خواہ مخواہ بے عزتی ہوگی اور اگر نہ مانیں گے تو مرید بھاگنے شروع ہو جائیں گے اس واسطے چار و ناچار انہوں نے یہ سوچا کہ کوئی ایسی بات نکالوجس سے معاملہ بھی ٹل جاوے اور مقابلہ بھی نہ ہو۔پس انہوں نے کہا کہ ہم کو سب شرطیں منظور ہیں مگر ایک شرط ہماری بھی ہے اور یہ وہ ہے کہ تفسیر سے پہلے ایک تقریری مباحثہ ہو جس کے حکم مولوی محمد حسین صاحب ہوں اور مولوی صاحب اگر ہمارے حق میں فیصلہ کر دیں تو مرزا صاحب ہمارے ساتھ بیعت کر لیں۔یہ تجویز پیر صاحب نے اس واسطے سوچی کہ حضرت مرزا صاحب آج سے چار سال پہلے شائع کر چکے ہیں کہ ہم ان مسائل میں اب کسی سے بحث نہیں کریں گے اور وہ کتاب جس میں یہ بات شائع کی گئی تھی وہ پیر صاحب کی خدمت میں بھی روانہ کی گئی تھی اور پیر صاحب جانتے تھے کہ کہ مرزا صاحب نے اپنے معاہدہ کے برخلاف تو کرنا ہی نہیں پس ہم کہہ دیں گے کہ انہوں نے مقابلہ سے انکار کیا ہے۔اور ساتھ ہی مولوی محمد حسین کو حکم بنایا کیونکہ اُس کا اپنا مذہب اور عقیدہ حضرت مرزا صاحب کے برخلاف ہے اور اُس کا فیصلہ بہر حال مرزا صاحب کے بر خلاف اور پیر صاحب کے حق میں ہے۔ہم پیر صاحب کا جواب اصل نقل کر دیتے ہیں۔وَ هُو هَذَا ނ مجھ کو دعوت حاضری جلسہ منعقدہ لاہور مع شرائط مجوزہ مرزا صاحب بسر و چشم منظور ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ مرزا صاحب بھی میری ایک ہی گزارش کو بسملک شرائط مجوزہ کے منسلک فرماویں گے۔وہ یہ ہے کہ پہلے مدعی مسیحیت و مهدویت و رسالت لسانی تقریر بمشافہ حضار جلسہ اپنے دعوی کو بپایہ ثبوت پہنچا دے گا۔ندارد کسے با تو نا گفتہ کار۔ولیکن چو گفتی دلیلش بیار ۲ یہ اس شرط سے کہ مولوی محمد حسین وغیرہ اس دعوت سے گریز کر جائیں جو ضمیمہ اشتہار ہذا میں درج ہیں۔سے یادر ہے کہ ہر ایک نبی یا رسول یا محدث جو نشان اتمام حجت کے لئے پیش کرتا ہے وہی نشان خدا تعالیٰ کے نزدیک معیار صدق و کذب ہوتا ہے اور منکرین کی اپنی درخواست کے نشان معیار نہیں ٹھیر سکتے اگر یہ ممکن ہے کہ کبھی شاذ و نادر کے طور پر اُن میں سے بھی کوئی بات قبول کی جائے کیونکہ خدا تعالیٰ انہی نشانوں کے ساتھ حجت پوری کرتا ہے جو آپ بغرض تحدی پیش کرتا ہے یہی سنت اللہ ہے۔