واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 4 of 142

واقعات صحیحہ — Page 4

کے متعلق ثابت نہیں۔بلکہ امام بخاری اور امام مالک اور امام ابن قیم اور امام ابن حزم اور شیخ محی الدین ابن العربی اور دیگر بزرگان دین نے صاف طور پر اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔حضرت مرزا صاحب اور آپ کی جماعت چونکہ اس مسئلہ کے متعلق بہت کچھ تحریر کر چکی ہے اور پیر صاحب گولڑوی نے کوئی نئی بات تحریر نہ کی بلکہ پرانی باتوں کو دہرایا جن کا جواب کئی دفعہ دیا جا چکا ہے۔اور علاوہ ازیں کتاب بسبب اپنے غیر سلیس املا اور بے ہودہ ترکیب فقرات کے خود اس قابل تھی کہ تعلیم یافتہ لوگ اس کو دیکھ کر نفرت کا اظہار کرتے۔اس واسطے حضرت اقدس مرزا صاحب نے جب اُس کتاب کو دیکھا تو آپ نے اس میں چند ایک ایسی کتابوں کے حوالے دیکھے جن کا پنجاب میں بلکہ ہندوستان میں ملنا قریباً محال ہے اور نیز دیگر بہت سی منطق اور علم الہی کی غلطیاں اُس میں دیکھیں اور ان کے متعلق دس سوال لکھ کر پیر صاحب کو روانہ کئے۔جب پیر صاحب کے پاس وہ خط پہنچا تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ گھبرائے کہ اب ہم سے اپنی کتاب کے متعلق بہت سی باتوں پر مطالبہ ہو گا اور خصوصا وہ کتا بیں جن کا ہم نے حوالہ دیا ہے وہ تو ہمارے پاس موجود نہیں اور نہ ہی ہم نے کبھی دیکھی ہیں۔یونہی ان کے نام لکھ دیئے تھے۔اب کوئی ایسی چال چلو کہ کتاب کے ذمہ داریوں سے بری ہو کر الگ بیٹھ جائیں اور مولوی نورالدین صاحب کو ایسا خط لکھ دو کہ بات اسی جگہ بند ہو جائے اور آگے نہ بڑھے اور ہماری عزت بھی قائم رہے۔یہ سوچ کر انہوں نے مولوی صاحب کو ایسے الفاظ میں ایک مختصر سا خط لکھا جس سے یہ سمجھا جائے کہ گویا پیر صاحب نے کوئی کتاب لکھی ہی نہیں۔مگر جب پیر صاحب کے مریدوں نے سنا کہ ہمارے پیر صاحب نے تو کتاب لکھنے سے ہی انکار کر دیا ہے تو وہ بے چارے بہت گھبرائے اور انہوں نے پیر صاحب کو چٹھیاں لکھنی شروع کیں کہ قبلہ آپ نے یہ کیا کیا۔آپ ہی کتاب لکھ کے ہمارے درمیان شائع کی اور آپ ہی مولوی نورالدین صاحب کو خط لکھا کہ میں نے تو کوئی کتاب مرزا صاحب کے برخلاف نہیں لکھی۔جب پیر صاحب کو مریدوں کے خطوط پہنچے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اور بھی گھبرائے اور دل میں کہنے لگے کہ لو یک نشد دو شد ہم نے تو سوچا تھا کہ مرزا صاحب اور مولوی صاحب ہمارے اس انکار کو دیکھ کر چپ ہو جائیں گے اور ہم مزے سے اپنا کام کئے