واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 61 of 142

واقعات صحیحہ — Page 61

۶۱ القرآن میں مقابلہ کے لئے بلایا تو اُس نے اپنی نالائقی اور خدا پر ایمان اور توکل نہ ہونے کا کھلا کھلا اقرار کرنے میں بے عزتی دیکھ کر زبانی مباحثہ کی حجت پیش کر کے مقابلہ تفسیر القرآن کو ٹال دیا۔اور جب دیکھا کہ حضرت مرزا صاحب اپنے اس اقرار پر جو وہ کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکے ہیں کہ ہم اب کسی سے مباحثہ نہیں کریں گے قائم ہیں اور یقین ہو گیا که مرز اصاحب لاہور نہیں آئیں گے چند مریدوں کے اکسانے پر لاہور آ گیا تا کہ اپنی فرضی فتح منا لے۔یہاں جب ہماری طرف سے اشتہار پر اشتہار نکلا کہ اگر تم کو مقابلہ بالتفسیر منظور ہے تو مرزا صاحب اب بھی آجاتے ہیں تو خاموش ہو کر دم دبائے اندر بیٹھا رہا اور ہمارے کسی اشتہار کا جواب نہ دیا۔پھر ہم نے رجسٹر ڈ خط بھیجے پر ایسا رعب اس پر وار د تھا۔کہ اُن کے لینے سے بھی اُس نے انکار کیا۔پھر ہم نے آدمی بھیجے۔دستی خط بھیجا۔بعض آدمیوں کو جواب دینے کا بھی وعدہ کیا پر وعدہ کے وقت لوگوں کو باہر سے ہی ٹال دیا اور اپنے تک نہ آنے دیا۔لاہور کے تعلیم یافتہ لوگ جو لائق آدمیوں کی لیاقت کا اندازہ اُن کی تقریروں سے کرتے ہیں۔انہوں نے بادب تحریری درخواست دی کہ پیر صاحب جلسہ میں ایک تقریر کریں پر مہر شاہ صاحب کو ہرگز جرات نہ ہوئی کہ ایک مجمع میں کھڑے ہو کر قرآن شریف کی کسی ایک آیت کی تفسیر کر دیتا اور اپنی ان حرکات سے اُس نے ثابت کر دیا کہ در حقیقت اُس کو خدا کی کلام سے کچھ مس نہیں اور آسمانی بولی سے اُس کو کچھ مناسبت نہیں اور بغیر اس کے کہ مرزا صاحب کے مقابلہ میں وہ کھڑا ہوتا اُس نے اس بات کا ثبوت دے دیا کہ خدا نے اُس کو قرآن شریف کے معارف کا فہم عطا نہیں کیا اس امتحان کے اندر اُس کے ہاتھ میں بجز سفید کاغذ کے اور کچھ نہ تھا۔اور اُس نے جب دیکھا کہ لوگ مجھ کو تقریر کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو جن مریدوں کی برانگیخت اور جبر و اکراہ سے وہ لاہور آیا تھا اُن کی رضا مندی کے برخلاف یہاں سے بھاگا۔اور مرزا صاحب کے نہ آنے کا یقین ہی تھا جو اُس کو لاہور میں لے آیا اور پھر تقریر نہ کر سکنے کا شرم ہی تھا جو اُ سے جلد یہاں سے بھگا کر لے گیا سو یہ اُس فتنہ کی مختصر رپورٹ ہے جو ہم نے اس کتاب میں درج کر دی ہے۔اور اپنے سب اشتہارات کو لفظ بہ لفظ نقل کر دیا ہے۔اسی عرصے میں حضرت اقدس مرزا صاحب نے ایک رسالہ بنام تحفہ گولڑویہ لکھا ہے جو کہ عنقریب شائع ہونے والا ہے۔اُس میں معارف حقہ کا