واقعات صحیحہ — Page 56
نمونہ دکھایا۔جس شام کو پیر گولڑوی لاہور میں آیا اُسی وقت سے شہر کے اندر مخالفین کے درمیان ایک جوشِ مخالفت بر پا ہوا اور چاروں طرف سے پیر صاحب کے اکثر ہم عقیدہ لوگ ایک دفعہ مانند درندہ کے وحشی ہو گئے اور ایک مرید حضرت مرزا صاحب کے واسطے محال تھا کہ و بغیر گالیاں اور وہ بھی فحش گالیاں سننے سے بازار سے گزر سکے۔خصوصاً وہ مقام جس میں اس کے خاص مرید رہتے ہیں وہاں سے گزرنے کا مجھے خود اتفاق ہوا۔پیر گولڑوی کے طرف داروں نے نہایت سفلہ پن کے ساتھ اُچھل اچھل کرگندی گالیوں کے ساتھ اپنی زبانوں کو نا پاک کیا اور اگر گورنمنٹ انگریزی کا خوف نہ ہوتا تو قریب تھا کہ وہ مجھ پر حملہ کرتے۔خیر یہ بازار یوں کی بات ہے۔مسجدوں میں کھڑے ہو کر ممبروں پر چڑھ چڑھ کر گندی گالیوں کے اشعار پڑھے گئے۔اور پیر گولڑوی وہاں صدر بن کر بیٹھے رہے۔اور کسی کو خیال نہ آیا کہ خانہ خدا کس کام کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔جہاں ہم اشتہار لگاتے۔ہر طرح سے اُس کے مثانے اور اتار نے اور پھاڑنے کی کوشش کرتے۔کیونکہ جانتے تھے کہ صداقت کا اثر لوگوں پر ہو گا۔جابجا گلیوں اور کوچوں میں جھوٹے اتہام ہم پر باندھ کر وعظ کیے گئے۔جعفر زٹلی نے اپنے جھوٹے الہام شائع کئے اور جب پیر گولڑوی کو بتایا گیا کہ یہ زٹلی نے مرزا صاحب کو محول کرنے کے واسطے اپنے جھوٹے الہام شائع کئے ہیں تو پیر گولڑوی نے بڑے شوق سے اُن اشتہارات کو سنا۔حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں گندی گالیوں کے بھرے ہوئے خط لکھے گئے۔ایسی فحش گالیاں جن سے چوہڑے اور چمار بھی شرم کرتے ہیں۔جھوٹ موٹ مشہور کر دیا گیا کہ مرزا صاحب کو تاریں دی گئی ہیں۔جن باتوں کا مرزا صاحب کی کتابوں میں کہیں نشان بھی نہیں وہ باتیں ہم پر تھوپ کر لوگوں کو وعظوں میں سنائی گئیں۔ہمارے برخلاف وعظ کر کے لوگوں کو اشتعال دلایا گیا اور سمجھایا گیا کہ مرزا صاحب واجب القتل ہیں اور مسجد میں تبرا بازی کا طریق اختیار کر کے ہم پر لعن طعن کیا گیا اور ہر ایک جس نے گندی گالیوں کے اشعار یا تقریر یا تحریر کرنے یا سنانے میں سب سے سبقت لی وہ سب سے قابل فخر ہوا۔اور جعفر زٹلی کے اشتہارات کو ہاتھ میں لے کر اور یہ کہہ کر کہ یہ شخص جھوٹے الہام