واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 125 of 142

واقعات صحیحہ — Page 125

۱۲۵ سے بحث کی ہے اور اعجاز مسیح میں اس کی طرف لطیف اشارات کئے ہیں ایسا خیال کرنا فرض کرنا کہ قرآن کریم مسیح موعود کے ذکر سے ساکت ہے قرآن کریم کی اسی طرح ہتک اور بے عزتی کرنا ہے۔جیسے ان لوگوں نے کی ہے جو اسے کسی قسم کے علوم غیبیہ پر مشمل نہیں مانتے۔تمام سلف کا یہ عقیدہ ہے کہ قیامت تک کے سارے واقعات کی قرآن کریم نے خبر دی ہے اور کوئی واقعہ نہیں جو عظمت و شان کے لحاظ سے مشہور ہو اور گزر چکا ہو یا آئندہ ہونے والا ہواور اس کی طرف قرآن کریم نے ایماء نہ کیا ہو۔ہم سلف صالحین کے اس عقیدہ کی تصدیق کرتے ہیں اور الحمد اللہ شرح صدر سے فرقان حمید پر ایسا ہی ایمان رکھتے ہیں۔ہم ایمان رکھتے ہیں کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے تمام نبیوں کی زبان سے اس عظیم الشان موعود کی خبر دی جو تمام نبوتوں کی تعمیل و تصدیق کرنے والا اور شیطان کا سر کچلنے والا تھا اور جس نے اُمُّ الْقُریٰ میں ظہور فرمایا ( صلوات اللہ علیہ وسلامہ ) اسی طرح خدا تعالیٰ نے ہر ایک نبوت کا مقصد عظیم اس دجالی فتنہ سے خبر دینا رکھا ہے جس کا ہنگامہ اور کارروائی تمام انبیاء کے پیارے مقصود کی بیچگنی کرنے والی ہے ایک اہل دل مومن جب اس آیت کو پڑھتا ہے۔تكادا اسلموا يتفطرن منه و تنشق الارض و تخر الجبال هدا ان دعو اللرحمن ولدا۔یعنی نزدیک ہے کہ آسمان پارہ پارہ ہوجائیں اور زمین پھٹ جائے اور پہاڑ چور چور ہو کر گر پڑیں اس آواز کے سننے سے کہ رحمن کے لئے بیٹا تجویز کرتے اور پکارتے اور لوگوں کو اس کے قبول کرنے کی طرف بلاتے ہیں۔اس کے بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس غضب کے تصور سے جو خدا کے اس کلام سے ٹپک رہا ہے۔یہ آیتیں صاف بتارہی ہیں کہ آخری زمانہ میں کوئی خوفناک فتنہ اس قوم سے ہونے والا ہے جو کسی مخلوق کو خدا کا بیٹا کہنے والی ہوگی۔اور یہ فتنہ اپنی خراب تاثیر اور استیصالی مادہ کے سبب سے نظام عالم کو درہم برہم کرنے کا موجب ہو گا۔اس مقام پر اس حدیث کو بھی غور سے پڑھنا چاہیے جس میں لکھا ہے کہ حضرت مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سورہ کہف کی ابتدائی آیتیں فتنہ دجال سے بچنے کے لئے اس خوفناک وقت میں ہر ایک مومن کو پڑھنی ضروری ہونگی اور سورہ کہف کا آخری رکوع قل هل انبئكم بالا خسرين اعمالا الذين ضل سعيهم فى الحيوة الدنيا وهم يحسبون انهم يحسنون صنعا صاف بتاتا