واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 113 of 142

واقعات صحیحہ — Page 113

مرزا ایک اردو خوان منشی ہے وہ عربی کیا جانتا ہے۔اس کی تعریف اور مدح میں اتنا مبالغہ کیا جاتا ہے میں اب جاتا ہوں اور اس کا بندو بست کرتا ہوں اور ایک دم میں اس کے سارے سلسلہ کو الٹاتا ہوں۔اسی دھمکی اور بخار کا سر جوش وہ تکفیر کا فتویٰ تھا جو اس کے تھوڑے دنوں بعد آپ کے قلم سے نکلا۔کاش یہ لوگ کبھی اس انا نیت سے بھرے ہوئے بول کی نامرادی اور ذلت پر غور کرتے کہ اس کا بولنے والا کہاں سے کہاں پہنچا۔اس کا قلم ٹوٹ گیا۔اس کے تمام جوش ٹھنڈے پڑ گئے۔اس کا اشاعہ دفتر گاؤ خرد ہو گیا۔وہ جو آسمانی علوم کی اشاعت اور تقلب الی السماء کا مدعی تھا وہ زمین اور زمینی حطام پر سرنگوں ہو گیا۔خدا تر سو غور کرو کیا اس امام المکفرین کی حد اور غایت یہی تھی کہ اب خاموش ہو جاتا جبکہ اس زمانہ کا مجدد و جماعت کا مالک مسیح موعود اب اپنے دعووں میں پہلے سے بھی زیادہ تیز اور ہزاروں جان شار خدام کے گلہ کا چوپان ہے۔در حقیقت ان مولویوں کی بات سچ تھی اور ان کا یہ اعتراض اور انکار کہ آپ لسان عرب سے ماہر نہیں ، ان کی واقفیت اور علم پر مبنی تھا اور حقیقت میں مولویوں بڑے واقفیت حال کے مدعی مولوی محمد حسین کی گواہی کے بعد ضرورت نہیں کہ حضرت موعود کی اُمیت کی نسبت زیادہ ثبوت دئے جائیں۔ان مولویوں کے چھوٹے بڑے اس وقت پکار کر یہی شکایت کرتے تھے کہ آپ مجدد دین ہونے کا دعوی کرتے ہیں ااور اسی دین کی لسان میں مہارت نہیں رکھتے اور فی الحقیقت اگر آپ کو لسان عربی کا علم نہ بخشا جاتا تو آپ کے لئے اور آپ کے تمام سلسلہ کیلئے شرم اور ماتم کی جگہ تھی۔اس لئے کہ عربی زبان کی واقفیت و مہارت ہی ایک ٹکٹ ہے جس کے وسیلہ سے خدا تعالیٰ کے حریم قدس میں جو قرآن کریم ہے باریابی کا شرف حاصل ہو سکتا ہے۔اور ایک مجدد، مامور، محدث، مکلم ، مہدی ہو یا مسیح موعود ہو لازم ہے کہ قرآن کریم کا علم اسے سب لوگوں سے زیادہ ہو مگر افسوس اور صد ہزار افسوس کہ جب غیور اور حکیم خدا نے انکی شکایت رفع کر دی اور احسن طور پر رفع کر دی اور حضرت مامور کو اس پاک زبان کے تبحر میں جن و انس پر سبقت اور فوق دید یا اسپر بھی انہوں بر نے اعراض اور استکبار کیا اور خدا تعالیٰ کے اس نشان سے کچھ بھی فائدہ نہ اُٹھایا۔ان کے نالہ