واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 126 of 142

واقعات صحیحہ — Page 126

۱۲۶ ہے کہ وہ نصاری ہی ہیں جو دنیوی صناع میں تمام گزشتہ زمانوں پر سبقت لے گئے ہیں اور یہی ہیں وہ جنگی دینی آنکھ کا ٹینٹ انگور کے دانے کی طرح باہر نکلا ہوا ہے پھر خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ کو جوام القرآن ہے ضالین پر ختم کیا اس میں صاف اشارہ ہے کہ یہ کوئی بڑا ہی خوفناک گروہ ہے جس کی راہ سے بچنے کے لئے اس زور کی دعا کی تعلیم مسلمانوں کو دی گئی ہے۔اور سلف و خلف نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ ضالین سے مراد نصاری ہیں۔پھر ساتویں آیت کا خاتمہ اس کو قرار دینا صاف اشارہ ہے کہ آدم علیہ السلام سے ساتویں ہزار میں اس گروہ کی طرف سے فتنہ ہوگا جس کو ضالین کہا گیا ہے اور پھر خدائے حکیم علیم نے قرآن عظیم کو ختم بھی کیا تو ان ہی تین سورتوں پر جن میں اس قوم کی طرف اشارہ ہے جو مخلوق کو خدا کا ولد کہتے ہیں اور یہاں سے شروع کیا قل ھواللہ احد الخ۔اس میں صاف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں خدا تعالیٰ کی احدیت پر حملہ کیا جائیگا اور اس وقت اسلام کا چاند تاریکی میں ڈوبا ہوا ہوگا۔( یہی مراد ہے و من شر غاسق اذا وقب سے ) اور ایسی عورتیں بکثرت گلی کوچوں میں پھریں گی جو طرح طرح کی تباہیاں اور مفسدے اسلامی خاندانوں میں برپا کریں گی اور وہ نصرانی عورتیں ہونگی ( یہی مراد ہے ومن شر النفثت فی العقد سے) اور شیطان خناس بھی یہی قوم ہے جن کے پاس وسوسہ اندازی اور مکروں کے سوا اور کوئی سامان نہیں۔غرض قرآن کے وسط میں شروع میں آخر میں اسی قوم کا ذکر ہے جس کا یہ اعتقاد ہے کہ وہ خدا کے عاجز بندے عیسی ابن مریم کو خدا کا بیٹا کہتی ہے۔اس سے ہر ایک سلیم الفطرت سمجھ سکتا ہے کہ سب سے بڑا فتنہ یہی ہے اور اس قوم نصاریٰ کا ہے جس کا ذکر اہمیت اور شد ومد سے کتاب حکیم نے کیا ہے۔قریب ہے کہ ضرورت قرآن کے دلائل سے یہ ایک بڑی دلچسپ اور زبردست دلیل ہو۔اس لئے کہ یہ قوم وہ دعوت لائی ہے جو آدم سے لے کر خاتم الانبیاء تک ( علیہ الصلوۃ والسلام ) تمام نبوتوں اور ان کے مقاصد کا تار و پود ادھیڑ کر رکھ دیتی ہے اور اس دعوت میں اس قوم کو اتنا غلو ہے کہ آجنگ کسی قوم کو اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوا۔قرآن کریم نے اس کے وقتوں کی۔اس کے ہاتھوں کی ، کاری گریوں کی اس کے غلبہ کی (وهم من كل حدب ینسلون) اور اس کے فتنوں کی بالتفصیل خبر دی اور صاف بتایا کہ