شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 57 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 57

داری یا رعایت نہیں کروں گا اس وقت ایک ہندو اور گورنر بھی موجود تھے گورنر کو خوف پیدا ہوا اور ہندو سے اپنے آپ کو سمیٹ کر بیٹھ گیا۔ایک بار صاحبزادہ صاحب بھی دربار میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک آدمی کو سزا کے لئے بلایا گیا جس وقت وہ حاضر ہوا گورنر نے حکم دیا کہ اس کو لٹا کر بید مارے جائیں اور مجرم کو نہیں چھوڑا جاتا تھا جب تک کہ مرنے کے قریب نہ پہنچ جاوے۔جب سزا مل رہی تھی صاحبزادہ صاحب نے خیال کیا کہ گورنر غصہ میں ہے سزا بند نہیں ہوگی اور وہ مجرم استقدر سزا برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ بوڑھا تھا تو اپنے ہاتھوں پر کپڑا لپیٹ کر اس پر ہاتھ کر دئے کنہ بید آپ کے ہاتھ پر لگیں اور وہ بچ جاوے۔گورنر نے یہ دیکھ کر اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ باہر جا کر سزادی جاوے صاحبزادہ صاحب نہ دیکھیں بیٹے نے باہر لیجا کر چھوڑ دیا اس لحاظ سے که صاحبزادہ صاحب نے معاف کر دیا تھا۔ایک دفعہ خوست کے جرنیل نے رعایا پر ظلم کیا اور اطراف میں لوگوں کے بہت سے ختنے کروادئے اور بہت رشوت کی اس سے فراغت پاکر سید گاہ کے قرب ڈیرہ آلگایا۔جمعہ کے روز جرنیل نے ایک آدمی بھیجا کہ ہمارا انتظار کیا جاوے کہ ہم بھی نماز جمعہ میں شامل ہو جاویں۔صاحبزادہ صاحب نے پروانہ کی اور نماز شروع کردی جرنیل خطبہ میں شامل ہو گیا۔جرنیل نے صاحبزادہ صاحب سے کہا کہ میں نے دین کی بڑی خدمت کی ہے کہ بہت لوگوں کا ختنا کرا دیا۔آپ نے فرمایا کہ خدمت دین کی تو کیا ہوا۔غریبوں کا تم نے چھڑا اتارلیا، ظلم کیا رشوت لی۔تمہارا تمام لباس حرام کا ہے اس سے نماز نہیں ہوتی۔جرنیل شرمندہ ہوا اور کچھ نہ بولا۔ایک بار صاحبزادہ صاحب امیر عبدالرحمن خان کے دربار میں گئے وہ خوش ہوا آپ سے کہا کہ سوات کے لوگ یا تو انگریزوں کی رعا یار ہیں گے یا ہماری۔درمیان میں ہر گز نہیں رہ سکتے۔اور میں نے انکو بلا بھیجا تھا لیکن سوات کے مولوی کے بیٹے نے آنے سے منع کر دیا اور مسلمانوں کی سلطنت سے روکنا کافر ہو جاتا ہے یا نہیں آپ شکر چپ ہو گئے اور سوچا کہ