شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 56 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 56

۵۶ فرعون مشہوراً۔اے فرعون میں تجھے ہلاک شدہ یقین کرتا ہوں۔آپ کو ابھی شہید نہیں کیا تھا کہ یہ زبان پر جاری ہوا عقروا الناقة وعصوا الرسول لوتسوى بهم الارض لكان خيراً لهم کابل کے بارہ میں معلوم ہوا خربت الخيبر و هلكت الاعداء - فقشها ما غشی فبای آلاء ربك تتمارى۔جب آپ کی لاش کو قبر سے نکالا گیا تو زبان پر جاری ہواو جاؤا بـامـر عـظـيـم فاغر قناهم اجمعین۔یہاعث مختصر ہی کافی ہے۔خدا نے چاہا تو پھر سہی۔حضرت صاحبزادہ صاحب جب کبھی سرداروں اور حاکموں کے ساتھ جایا کرتے تو اپنا خرچ آپ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔حاکم بہت زور دیتے کہ ہمارا کھانا کھا ئیں لیکن آپ بالکل اُنکے خرچ سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔حاکم رعایا سے ظلما لیتے تھے۔ایک دفعہ گورنر مذکور نے بہت اصرار کیا کہ آپ اس کے ساتھ چائے پئیں اور کہا کہ ہندو لوگ ہمیں رضامندی اور خوشی سے چائے دیتے ہیں ہم زور وظلم سے نہیں لیتے اس لئے آپ کبھی کبھی چائے پی لیا کرتے تھے۔ایک دفعہ گورنر نے ایک کوٹھی بنوائی آپ سے کہا کہ اس میں کوئی نقص بتادیں کہ آپ اس فن سے بھی واقف ہیں آپ کچھ دیر چپ رہے پھر فرمایا کہ میں کیا بتاؤں اگر نقص نکالوں تو آپ جیبر ا کسی نجار سے درست کر لینگے اگر نہ بتاؤں تو آپ اصرار کرتے ہیں کہ ضرور نقص بتاؤں (وہاں ہر صبح کاریگروں کو حاکم بیگار میں پکڑوا کر بلواتے ہیں ) اس وقت کئی نجار تھے ایک باہر کھڑا باتیں سن رہا تھا وہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ نقص بتادیں میں خوشی سے درست کردوں گا تب آپ نے تمام نقص بتا دے۔ایک بار ایک غریب آدمی کے ساتھ قاضی کا مقدمہ تھا گورنر نے صاحبزادہ صاحب کو فیصلہ کے لئے مقرر کیا۔تاریخ پر حاضر ہو کر وہ آدمی عاجزی ظاہر کرنے لگا اور اسے خوف تھا که صاحبزادہ صاحب قاضی کے حق میں فیصلہ نہ کر دیں۔صاحبزادہ صاحب جوش میں آگئے اور اسکو کہا کہ اگر ایک ہندو غریب کا گورنز سے مقدمہ ہو جاوے تو میں کسی کی طرف