شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 26
۲۶ اور نا معلوم کی قبر بنائی۔لیکن خان عجب خان صاحب تحصیل دار نے کہا کہ شہید مرحوم کی قبر کو اچھی طرح بنایا جائے شائد تحصیل دار صاحب موصوف الذکر نے اپنی طرف سے کچھ امداد بھی کی شہید مرحوم کے شاگردوں نے اپنی جگہ قبرسید گاہ میں ان کی لاش پر بنوائی۔کچھ عرصہ کے بعد جب وہ لوگوں میں مشہور ہوئی اور لوگ دور دور سے زیارت کے لئے آنے شروع ہوئے تب بادشاہ کی طرف رپورٹ ہوئی کہ اس آدمی کی لاش جس کو سنگسار کیا تھا یہاں پر لائی گئی ہے اور اس پر ایک بڑی قبر تیار ہوئی ہے لوگ بڑی بڑی دور سے دیکھنے اور زیارت کے لئے آتے ہیں اور اس پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔تب امیر نصر اللہ خان نے جو بادشاہ کا بھائی تھا خوست کے گورنر کو حکم دیا کہ شہید مرحوم کی لاش کو نکال کر آگ یا دریا میں ڈال دیا جاوے اور ان کی لاش نکالنے والے کو سزادی جاوے جب گورنرخوست کو حکم پہنچا تو اس نے سرکاری آدمی بھیج کر شہید مرحوم کی لاش کی ہڈیاں نکال کر لے گئے بعض کہتے ہیں کہ ہڈیاں دریا میں ڈالی گئیں بعض کہتے ہیں کہ کسی مقبرہ میں دفن کر دی گئی ہیں۔اس لاش کے نکالنے والے کا نام بتایا جا چکا ہے کہ میر و تھا۔اس کا کالا منہ کر کے اور گدھے پر چڑھا کے تمام گاؤں میں پھرایا گیا اور لوگ کہتے گئے کہ یہ وہ شخص ہے جس نے اس کا فرضی لاش کو جسکو سنگسار کیا گیا تھا نکالا ہے دیکھو اسکی کیا سزا ہے۔خیر خدا تعالیٰ نے شہید مرحوم کی قبر کو شرک کی ملونی سے پاک رکھا اللہ تعالیٰ ان پر بڑے بڑے فضل و کرم کرے اور ہمیشہ اُن کو اپنے عرش کے سایہ میں رکھے۔آمین ثم آمین۔کچھ مصنف کا احوال میرے والد صاحب ہمیں کہا کرتے تھے کہ مشرق کی طرف آسمان سے ایک نور اترا ہے تم لوگ مشرق کی طرف چلے جاؤ۔کاش میں اس وقت زندہ ہوتا تو میں بھی جاتا۔میں بچپن سے ہی اللہ و رسول سے محبت رکھتا تھا میں نے اپنے والد سے کہا کہ مجھے اپنا مرید بنالو