شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 38
۳۸ انہیں پار لگا دیا۔روپیہ اور کپڑے سب دریا میں بہ گئے۔آپ نے اسکی کچھ پروانہ کی اور نمبر داروں کے آدمیوں نے گھوڑے کو دریا سے نکال لیا۔پاس ہی ایک گاؤں تھا اس میں ایک مولوی جان گل رہتے تھے اور آپ سے واقف تھے اُنکے گھر چلے گئے آپ نے مولوی جان گل سے کہا کہ میرا ہندوستان جانے کا ارادہ ہے۔مولوی صاحب نے عرض کیا کہ میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ میں تو ایک تہ بند رکھتا ہوں ملنگ کے بھیس میں جاؤں گا اگر تم میرے ساتھ جانا چاہتے ہو تو صرف بہ بند رکھنا ہوگا اور ملنگ بن کر چلنا ہوگا۔آخر آپ اور مولوی صاحب نے تہبند باندھا فقیری کے بھیس میں امرتسر آئے۔صاحبزادہ صاحب کو ننگا سینہ برا معلوم ہوتا تھا۔ایک رومال سینہ پر لٹکا لیا۔جب امرتسر پہنچے کشمیری محلہ میں ایک حنفی مذہب کا مولوی تھا ا سکے پاس اتر پڑے۔اس مولوی کے پاس کتابوں کی لائبریری تھی۔آپنے خیال کیا کہ اس کے پاس بہت سی کتابیں ہیں انہیں سے فائدہ اٹھا ئیں گے اور کتابوں کا مطالعہ کیا کرینگے رات دن کتابوں کے مطالعہ میں مشغول رہتے۔شام سے صبح تک کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے اسی گمنامی کی حالت میں رہے کہ نہ تو کوئی آپ کا واقف بنا اور نہ آپ کسی سے واقف ہوئے۔صرف کبھی کبھی ملنگ فقیروں کے پاس جایا کرتے تھے اس ڈیرہ کے لوگوں کو بہت خوش کیا کرتے تھے۔کیونکہ صاحبزادہ صاحب دولتمند آدمی تھے۔آپ کو پیچھے سے خرچ آیا کرتا تھا۔اسلئے آپ لوگوں کو بہت کچھ دیا کرتے تھے۔اور آپ نے جامہ ملنگی زیب تن رکھا۔آپ پر عجیب و غریب حالات گزرتے تھے۔ایک روز فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سے جو مدینہ منورہ میں ہے امرتسر میں ایسی خوشبو آتی تھی کہ جیسے بار یک رومال میں کوئی خوشبو اپنے پاس رکھی ہوئی ہوتی ہے۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ ایک راز میں نے معلوم کیا کہ جان گل مجھ سے روحانیت میں کتنا دور ہے تب مجھے معلوم ہوا کہ بہت دور ہے۔فرمایا کہ میں نے جان گل سے دریافت