شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 55
AA اور عوام جو خواندہ نہیں تھے آپ کے پاس تنازعوں اور جھگڑوں کے وقت آیا کرتے تھے اور آپ کی بات کو کوئی رد نہیں کر سکتا تھا تو آپ انکو اس طور سے نصیحت کرتے تھے۔آپ لوگوں کیلئے قیامت میں کوئی عذر نہ ہو گا کہ تم لوگ مباحثات کے وقت تو مجھ پر اعتماد رکھتے ہو اور عقیدہ میں مجھ پر اعتماد نہیں کرتے اور اپنے پیر کی جھوٹی باتوں کی پیروی کرتے ہو۔ہمارے تمہارے درمیان جن مسائل کا اختلاف ہے۔ان کو تم بھی لکھ لو اور میں بھی لکھتا ہوں۔دو شخصوں کو خرچ دے کر مکہ بھیجتے ہیں۔اگر انہوں نے تمہارے کاغذ پر تصدیق کر کے مہر لگا دی تو تم بچے اور میں خاموش ہو جاؤں گا اور یہ سمجھ لوں گا کہ تمام جہان پر تاریکی پھیل گئی ہے اور اگر میرے کاغذ کی تصدیق کر کے مہر لگا دی تو تم کو تو بہ کر کے میری طرف لوٹ آنا چاہیے۔اور بڑے حکام کو یہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ تم لوگ کہتے ہو کہ ہم شریعت پر عدل کے ساتھ حکومت کرتے ہیں تو رعایا آپ سے ناراض کیوں ہے اور تنگ کس لئے ہے شریعت تو ایسی نرم ہے کہ اگر اس پر قائم رہو تو انگریزی حکومت کے ہندو اور تمام مذہبوں کے لوگ کہہ انھیں کہ کاش ہم پر یہ لوگ حکومت کرتے۔برعکس اس کے تمہاری رعایا کہتی ہے کہ انگریزی حکومت ہم پر ہوتی تو اچھا ہے کیونکہ تم نہ شریعت کی پروا کرتے ہو اور نہ قانون کا خیال۔حضرت صاحبزادہ صاحب فرماتے تھے کہ مجھ پر خدا تعالیٰ نے بہت سے امور منکشف فرمائے۔ایک دفعہ رات کے وقت نماز کو جارہا تھا کہ میرا پاؤں کیچڑ سے پھسل گیا۔اور گر گیا اس سے میرا دل خراب ہو گیا اور میں گھر آ گیا یک لخت میری زبان پر جاری ہوا کہ درویشاں سنگ برمیدارند جو درویش ہوتے ہیں اگر ان پر اگر پتھر برسائے جائیں پروانہیں کرتے۔ایک دفعہ زبان پر جاری ہوا فی مقعد صدق عند مليك مقتدر آپ کی شہادت کے بعد میرا دل گھبرا رہا تھا بوقت خواب میری زبان پر جاری ہوا۔آتش عشق آمد و گرو جوار من بسوخت کابل کے بارہ میں قاتلهم الله قتلوہ۔ایک دفعہ امیر حبیب اللہ خان کو میں نے خواب میں دیکھا تو میری زبان پر آیا انى لاظنك يا