شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 41
چاہئیں جب آپ کے پاس مولوی صاحبان فتویٰ پوچھنے کے لئے آتے تو آپ کا فتویٰ سنکر کہتے کہ منٹر کی صاحب تو یوں کہتے ہیں لیکن آپ تو اُنسے بہت خلاف ہیں اس پر آپ کو خیال آیا کہ پھر معلوم کرنا چاہیئے کہ یہ جو غلط فتویٰ لوگ بیان کرتے ہیں یہ منٹر کی صاحب سکھلاتے ہیں یا انکی اپنی غلط بیانی ہے۔آپ پھر دوبارہ منٹر کی صاحب کے پاس گئے۔جب آپ وہاں پہنچے۔وہاں ایک اور مولوی تھا جو سوٹے کے مولوی کے نام سے مشہور تھا۔ان دونو کے درمیان بہت جھگڑا رہا کرتا تھا۔ایک دفعہ ان دونوں کے درمیان کسی مسئلہ پر جھگڑا ہو گیا۔اور قرار پایا کہ کسی تیسری جگہ جانا چاہیئے تاکہ معلوم ہو جاوے کہ کون سچا ہے اس اثنا میں صاحبزادہ صاحب وہاں پہنچ گئے۔آپنے منٹر کی کے مولوی سے کہا کہ اپنے گھر میں ہی کتابوں سے دیکھ لو اگر ہے تو مانا پڑے گا نہیں تو اس جھگڑے کی کیا ضرورت ہے۔صاحبزادہ صاحب نے بہت سی کتابیں پیش کیں لیکن یہ منٹر کی مولوی نہ مانا اور مقرر کردہ جگہ پر جو ایک طرف اٹھارہ ہزار آدمی تھے اور دوسری طرف تیرہ ہزار تھے۔شیخان قوم کا ہر طرف سے یہ شور تھا لنگر کا خیال رکھو کہ ہماری ناک نہ کٹ جاوے۔آخر جب ہر طرف سے یہی آوازیں اٹھیں تو میرا دل منٹر کی مولوی سے پھر گیا اور یقین ہو گیا کہ یہی جھوٹے فتوے لکھتا ہے خدا کے لئے کوئی کام نہ تھا صرف ناک کا خیال تھا۔اس وقت گورنمنٹ انگریزی کو رپورٹ پہنچی کہ ایک بہت بڑا مجمع بنا ہے ضرور فساد ہوگا انتظام کیا جاوے گورنمنٹ نے فوراً جمگٹھا ہٹا دیا اور حکم ہوا کہ زیادہ مجمع نہ ہو وے بہت جلد فیصلہ ہو جانا چاہیئے اور سب مجمع کو منتشر کر دیا مولوی اپنی اپنی جگہ پر واپس چلے گئے اور منٹر کی صاحبزادہ صاحب کے ساتھ آگیا۔صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے ان مولویوں کو مجلس میں بندروں کی شکل پر دیکھا۔اور فرمانے لگے کہ مجھے یقین ہو گیا کہ یہ لوگ بالکل نہیں مانیں گے۔پھر جب منٹر کی کے مولوی گھر پہنچے تو گھر پر بھی صاحبزادہ صاحب نے بہت سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھا۔خر آپ صبح وہاں سے اپنے ملک خوست کی طرف روانہ ہو گئے۔راستہ میں تمام منٹر کی کے آخر