شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 40 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 40

۴۰ مجھے خود عطا کیا ہے۔اب شیخان کو دیکھنا چاہئیے کہ یہ بہت پھیلے ہوئے ہیں اور ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔فرمایا کہ میں نے جب دیکھا کہ مختلف قسم کے لوگ میرے پاس آتے ہیں تو میں نے شیخان لوگوں سے نرمی و محبت کا تعلق رکھنا شروع کیا۔یہ سب لوگ جو آتے تھے تو آپ ایک طرف تو دعوت شروع کر دیتے اور دوسری طرف قرآن وحدیث کا بیان کرتے۔تب ان شیخان میں سے ایک مولوی نے کہا کہ مٹر کی کی کے مولوی جو سوات صاحب کے موذن ہیں ان کے پاس جانا چاہیے وہ بہت اچھا اور بڑا مولوی ہے۔تب آپ اس کی طرف روانہ ہوئے۔جگہ جگہ پر مٹر کی کے مولوی کے شاگرد تھے انہوں نے آپ کی بہت عزت کی اور بڑے خوش ہوئے کہ صاحبزادہ عبداللطیف اتنا بڑا آدمی بھی ہمارے پیر کا شاگرد ہونے آیا۔اور آپ اسلئے جارہے تھے کہ تا معلوم کریں کہ آیا شیخان لوگوں کے مولویوں کی طرح یہ بھی تعلیم دیتا ہے یا کوئی اچھا آدمی ہے۔پس آپ اُسکے پاس پہنچ گئے آپ کے ساتھ مختلف قسم کے لوگ منٹر کی کو آئے۔یہ شیخان بہت سی قرآن اور حدیث کے خلاف تعلیم دیتے تھے۔قریبا ڈیڑھ سو ایسے مسائل تھے جن میں سے کچھ یہ ہیں کہ پیٹے رکھنے حرام ہیں یعنی سر کے بال اور نسوار سونگھنی حرام ہے۔جس زمین میں نسوار کا درخت بویا جائے وہ پلید ہے۔دو تین سال تک اس کی فصل بھی حرام ہے نسوار لینے والے کی عورت بغیر طلاق کے مطلقہ ہو جاتی ہے۔آپ فرمانے لگے کہ میں اسلئے اس پیر کے پاس آیا ہوں کہ تا کہ معلوم کرلوں کہ آیا یہ غلط فتوی دینے والے نہیں یا نہیں۔اور فرمانے لگے کہ جب میں اس پیر کے پاس آیا تو معلوم ہوا کہ یہ آدمی تو اچھا ہے یہ فتوی وہ خود نہیں بناتا کیونکہ اس کے منہ سے میں نے کوئی ایسی بات نہیں سنی جو شیخان مولویوں سے سنی جاتی تھی۔تب مجھے اس پر نیک گمان ہوا۔چند روز کے بعد صاحبزادہ صاحب اپنے ملک خوست واپس چلے آئے۔جب آپ گھر پہنچے تو آپ کے پاس پہلے سے زیادہ لوگ آنے شروع ہوئے لوگ خیال کرتے تھے کہ صاحب زادہ صاحب منٹر کی صاحب سے آئے ہیں آپ سے سنی