شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 39
۳۹ کیا کہ جان گل تو مجھ سے کتنا دور ہے اس نے بالشتوں سے ماپ کر کہا کہ تین بالشت میں نے کہا کہ نہیں۔تمھارا اور میرا آسمان اور زمین کا فرق ہے۔فرماتے تھے کہ ایک دفعہ ہم نے سوچا کہ اس امرتسر کے مولوی سے ہمیں یہی فائدہ کافی ہے کہ کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور اگر کوئی بات پوچھنی ہوتو پوچھ لیا کرینگے۔ایک روز اہلحدیث کی طرف سے دہلی سے ایک رسالہ اس مولوی کے پاس آیا رسالہ کا نام ضرب النعال على وجه عدو الله الدجال۔اور لکھا تھا کہ اس کا جواب دو جب یہ مولوی اس رسالہ کا جواب نہ دے سکا تو وہ مولوی اہلحدیث دہلی سے امرتسر اس مولوی کے پاس مباحثہ کے لئے آئے اس مولوی نے صاحبزادہ صاحب سے کہا کہ اہلحدیث دہلی کا یہ رسالہ آیا تھا اب وہ بحث کے لئے یہاں آنے لگے ہیں کیا کیا جاوبے صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ تم مجھے اپنا وکیل بنا دینا میں خود ہی جواب دے لوں گا جب یہ مولوی بحث کے لیئے آئے تو آپ جواب کے لئے تیار ہو گئے۔انہوں نے کچھ سوال کیئے آپ نے ایسے جواب دیئے کہ وہ حیران ہو گئے۔پھر دوبارہ انہوں نے کچھ اور سوال پیش کئے یہ جب دوسری دفعہ جواب دیا گیا تو وہ مولوی چپ ہو کر واپس دہلی چلے گئے۔یہ سب سوال و جواب تحریری تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب قریباً تین سال کے بعد واپس خوست اپنے اسی لباس مولویانہ میں تشریف لے گئے۔خوست میں تین قسم کے لوگ تھے ایک وہ جو حاکم تھے دوسرے مولوی اور تیسرے شیخان جو قادری سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے۔آپ نے ہر ایک فرقہ کو خد اور رسول کے خلاف پایا۔حاکموں کو دیکھا کہ بہت ظالمانہ طریق پر لوگوں سے روپیہ وغیرہ لیتے ہیں۔مولویوں کو دیکھا کہ یونہی ہر ایک سے جھگڑاتے اور جھوٹے فتوے لگاتے ہیں اور شیخان لوگوں کو دیکھا تو انکے پاس بڑی بڑی تسبیحیں رہتی ہیں۔صاحبزادہ صاحب نے سوچا کہ حاکمانہ لباس تو ہمیں باپ دادا سے حاصل ہے اور مولویا نہ لباس خدا تعالیٰ نے