شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 37
اچھا جانتے ہیں اور بڑے عالم و فاضل میں آپ اسکا جواب لکھ سکیں گے۔آپ نے فرمایا کہ مجھے یہاں کام ہے گھر جا کر کتاب کو دیکھوں گا۔صاحبزادہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا شجرہ نسب تو جل گیا ہوا ہے لیکن ہم نے اپنے باپ دادا سے ایسا سنا ہے کہ ہم علی ہجویری گنج بخش لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے ہیں۔اور ہمارے دادا د ہلی کے بادشاہ کے قاضی تھے۔کتابوں کی ایک لائبریری تھی جو نو لاکھ روپیہ کی تھی۔ہمارے باپ دادا نے نادانی کی جو حاکم بن گئے حکومت پسند کرنے پر انھوں نے تعلیم کی پروانہ کی۔تمام کتابیں ضائع ہو گئیں۔میرا اپنا یہ حال یہ ہے کہ مجھے باپ دادا سے جائیدادور ثہ میں ملی ہے اس کو رکھنے پر مجبور ہوں۔میرا دل دولت کو پسند نہیں کرتا۔صاحبزادہ صاحب علم مروجہ کے بڑے عالم تھے۔ہر ایک قسم کا علم رکھتے تھے بہت سے شاگرد بھی آپ سے تعلیم پاتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ہندوستان بھی جانا چاہئے یہ گورنر کے حاکم ہونے سے پہلے کا واقعہ تھا۔سو اس ارادہ سے آپ بنوں آئے یہاں پر آپ کی بہت بڑی جائکہ او ہے۔یہاں کے نمبر دار آپ کے پاس آتے اور نیزہ بازی وغیرہ کھیلتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے نمبر داروں سے فرمایا کہ میں ہندوستان جانے ارادہ رکھتا ہوں انہوں نے جواب میں کہا کہ برسات کا موسم ہے یہ گذر لینے دیں۔لیکن آپ نے برسات کا خیال نہ کیا اور چل پڑے وہاں کے نمبر دار آپ کو کچھ فاصلہ پر چھوڑنے کے لئے ساتھ آئے۔اور آپ بہت سے کپڑے اور روپیہ لیکر گھوڑے پر سوار ہو گئے۔جس وقت کرم دریا پر پہنچے۔تو دریا بہت چڑھا ہوا ہے اور پانی نہایت گدلا۔صاحبزادہ صاحب کو تیر نا نہیں آتا تھا۔آپنے کپڑے اتار کر گھوڑے کی زمین پر رکھ کر تہ بند باندھا اور گھوڑا دریا میں ڈالد یا دوسرے لوگوں کے گھوڑے تو پار ہو گئے لیکن آپ کا گھوڑا پانی نے اوپر اٹھا لیا۔اور گھوڑا بے طاقت ہو گیا۔آپ گھوڑے سے دریا میں کود پڑے اور دریا میں غوطے کھانے لگے اور یہ کہتے رہے کہ یارحیم یا رحیم یارحیم۔آخر خدا نے فضل و رحم کر کے