شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 27 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 27

۲۷ کیونکہ اس وقت میرے والد لوگوں سے بیعت لیا کرتے تھے۔والد صاحب نے فرمایا کہ تمہارا مر تبہ اس سے بلند ہے کہ مرید بنو۔تم اپنے سبق میں مشغول رہو۔قرآن شریف ایسی حالت میں میں نے ختم کیا تھا کہ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کس وقت پڑھا ہے۔بہت سا علم میں نے اپنے والد سے سیکھا ہے۔کبھی کبھی وہ اچھی اچھی باتیں معرفت کی سنایا کرتے تھے۔جب بڑا ہوا تو سفر کیا غز نین۔کابل۔تیراہ۔پشاور وغیرہ مختلف جگہوں میں علم پڑھا آخر میں شہید مرحوم کے پاس گیا اور ان سے ملاقات ہوئی اور انکے ہاتھ پر بیعت کی۔شہید مرحوم میرے ساتھ بہت محبت رکھتے تھے اور معرفت کی باتیں سنایا کرتے تھے۔کسی نے میرے والد صاحب سے کہا کہ تمہارا بیٹا مولوی عبد اللطیف صاحب کے پاس گیا ہے اور ان سے بیعت بھی کی ہے انہوں نے کہا کہ اچھا ہے وہ سفید کپڑوں والا تھا اور سفید کپڑے والوں سے مل گیا۔مسیح موعود علیہ السلام کی معرفت ایک بار میں ایک جگہ سبق پڑھتا تھا ایک حاجی میرے پاس مہمان کے طور پر ٹھہر اوہ حج کر کے آیا تھا میں نے اس سے حج اور مکہ معظمہ کی باتیں دریافت کیں اس نے بیان کرتے کرتے یہ کہا کہ ہندوستان میں ایک شخص ہے وہ دعوی کرتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور میں اس زمانہ کے لئے مامور ہو کے آیا ہوں۔عیسی بن مریم ہونے کا دعوی بھی کرتا ہے او نیز نبی ہونے کا بھی مدعی ہے۔تب میں نے حاجی صاحب کو کہا کہ آپ وہاں گئے تھے انہوں نے کہا کہ گیا تو نہیں سنا ہے۔میں نے کہا کہ تم گواہ رہنا کہ اس پر ایمان لے آیا ہوں اور سچا یقین کرتا ہوں۔حاجی صاحب نے کہا کہ واہ بھائی نہ تو آپ نے دیکھا ہے اور نہ تحقیق کی صرف سنکر ایمان لے آئے یہ کیا وجہ ہے۔میں نے کہا کہ اس کا دعوی سچا ہے اگر پہاڑ یہ دعوی کرے اور حق دار نہ ہو تو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔اگر تم نے سچا حج کیا ہے تو