شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 22 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 22

۲۲ کہنے لگے کہ شاید یہ وہی آدمی ہے جسکو امیر نے سنگ سار کیا تھا اسلئے ایسی خوشبو آ رہی ہے میں نے کہا کہ ہاں یہ ایسا شخص تھا کہ ہر وقت قرآن شریف کی تلاوت اور خدا کو یاد کرتا تھا یہ و ہی خوشبو ہے۔جب ہم نے زمین سے اٹھا کر کفن میں ان کو رکھا تو مجھے کشف میں معلوم ہوا کہ پہاڑی کے پیچھے پچاس آدمی اور ایک سوار دورہ یعنی گشت پر آ رہے ہیں۔اس زمانہ میں رات کے وقت پہرہ ہوتا تھا اور کسی کو باہر پھرنے کی اجازت نہ تھی اگر کوئی رات کو پکڑا جاتا تو بغیر پوچھ پاچھ کے مار دیا جاتا تھا۔تب میں نے ان لوگوں کو کہا کہ ہٹ جاؤ لوگ سرکاری آرہے ہیں اور یہ چاندنی رات تھی جب ہم ہٹ گئے تو تھوڑی دیر کے بعد ایک سوار اور بہت سے لوگ اس سڑک پر آئے کہ جس سڑک سے راستہ میگزین کو جاتا ہے اس سڑک پر سے میگزین کو گئے اور کچھ دیر کے بعد اس راستہ سے واپس چلے گئے تب ہم شہید مرحوم کی لاش پر آگئے اور لاش کو تابوت میں رکھ دیا۔لاش اتنی بھاری ہوگئی تھی کہ ہم اٹھا نہیں سکتے تھے۔تب میں نے لاش کو مخاطب ہو کر کہا کہ جناب یہ بھاری ہونے کا وقت نہیں ہم تو ابھی مصیبت میں گرفتار ہیں کوئی اور اٹھانے والا نہیں آپ ہلکے ہو جائیں۔اس کے بعد جب ہم نے ہاتھ لگایا تو لاش اتنی ہلکی ہو گئی تھی کہ میں نے کہا کہ میں اکیلا ہی اٹھا تا ہوں لیکن اس دوست نے کہا کہ نہیں میں اٹھاؤں گا۔آخر اس نے میری پگڑی لے کر اور تابوت کو اس کے ذریعہ سے اٹھایا نزدیک ہی ایک مقبرہ تھا وہاں لاش رکھ کر میں نے انکو رخصت کیا کہ وہ سرکاری آدمی تھا۔صبح ہوتے ہوئے میں نے مقبرہ میں ایک زیارت والے آدمی کو کچھ پیسے دے کر ساتھ کر لیا اور تابوت کو شہر کے اندر لائے شہر کے شمال کی طرف ایک پہاڑی بالا حصار نام کے دوسری طرف ایک قبرستان تھا جو انکے آباء واجداد کا تھا وہاں دفن کر دئے پھر میں ایک ماہ کابل میں ٹھہراتا کہ معلوم ہو جائے کہ اگر گرفتاری ہو تو مجھ پر ہو میرے اہل وعیال کو تکلیف نہ ہو۔بعد اس کے میں گھر آیا اور میں نے گھر میں کہا کہ میں تو جاتا ہوں۔لیکن اس اثنا میں