شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 16 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 16

14 میرے آنسو نکل آئے اور میں نے عرض کیا کہ جناب میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں۔میں کب جدا ہوں گا۔آپ نے فرمایا کہ نہیں نہیں۔جب تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا تھا کہ میں قادیان سے باہر نہیں جا سکتا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ان کے ساتھ جاؤ اور تم واپس آجاؤ گے اس لئے تمہارے بارہ میں تو مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ واپس آجاؤ گے میرے بارہ میں تو نہیں فرمایا۔اس اثناء میں کہ جواب نہیں آیا تھا بہت سے دوستوں نے عرض کیا کہ اگر آپ نے جاتا ہے تو ہم آپ کو لے جائیں گے تمام عیال کے ساتھ ہوں چلے جائیں اس وقت موقعہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ نہیں میں ہرگز نہیں جاؤں گا مجھے حکم ہوتا ہے کہ اِذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ۔اس لئے اگر میں مارا بھی گیا تو میرے مرنے پر بھی تم کو بہت مدد ملے گی اور فائدہ پہنچ جائے گا اس لئے میں بالکل نہیں جاؤں گا۔اس روز جس روز کہ پچاس سواروں نے آنا تھا آنے سے پیشتر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام ایک خط لکھا جسمیں تمام واقعات جو خطوں کے بارہ میں ہوئے تھے لکھے اور جو اس خط میں القاب تھے وہ بہت شیریں اور بڑے اعلیٰ القاب تھے۔مجھے پسند آئے۔میں نے عرض کیا کہ یہ خط مجھے دے دیں نقل کر کے میں واپس دے دونگا۔آپ نے وہ خط اپنی جیب میں ڈال لیا اور فرمایا کہ یہ خط تمہارے ہاتھ میں آوے گا۔عصر کا وقت قریب آیا کہ یکے بعد دیگرے پچاس سواروں میں سے لوگ آنے لگے۔جب نماز کا وقت آیا تو شہید مرحوم نے آگے ہو کر نماز پڑھانی شروع کی نماز کے بعد ان سواروں نے عرض کیا کہ آپ سے گورنر صاحب عرض کرتے ہیں کہ مجھے آپ سے ملاقات کرنی ہے آپ خود آئیں گے یا میں حاضر ہو جاؤں۔آپ نے فرمایا نہیں۔وہ ہمارے سردار ہیں میں خود چلتا ہوں۔آپ نے گھوڑے کو زین کرنے کا حکم دیا لیکن سواروں میں ایک سوار اترا اور آپ کی سواری کے لئے گھوڑا خالی کیا۔جب آپ گھوڑے پر سوار ہونے لگے تو خط آپ نے جیب