واقعات شیریں — Page 8
نہ کر سکے تو اس کو ایک تحریک الہی خیال کر کے نکل پڑے اور ایک طرف کو چلے۔آگے جا کر دیکھتے ہیں کہ ایک درخت کے تلے ایک شخص بے دست و پا پڑا ہے اس نے ان کو دیکھتے ہی کہا کہ اے جنید میں کتنی دیر سے تمہارا منتظر ہوں تو دیر لگا کر کیوں آیا تب آپ نے کہا کہ اصل میں تیری ہی کشش تھی جو مجھے بار بار مجبور کرتی تھی اسی طرح ہر ایک امر میں ایک کشش قضاء و قدر میں مقدر ہوتی ہے وہ پوری نہ ہو تو آرام نہیں آتا۔۔۔۔۔سفر کریں تو دین کی نیت سے کریں ( ملفوظات جلد چهارم ۳۰-۳۰۷) شیطان کے حملوں سے ہوشیار رہو " چنانچہ ایک ولی اللہ کا تذکرہ لکھا ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کا آخری کلمہ یہ تھا کہ ابھی نہیں ابھی نہیں۔اُن کا مرید یہ کلمہ سن کر سخت متعجب ہوا۔اور رات دن رو رو کر دعائیں مانگنے لگا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ایک دن خواب میں ان سے ملاقات ہو گئی۔دریافت کیا کہ یہ آخری لفظ کیا تھا اور آپ نے کیوں کہا تھا ؟ آپ نے جواب دیا کہ شیطان چونکہ موت کے وقت پر ایک انسان پر حملہ کرتا ہے کہ اس کا نورِ ایمان آخیر وقت پر چھین لے اس لیے وہ حسب معمول وہ میرے پاس بھی آیا اور مجھے مرتد کرنا چاہا اور میں تسحب اس کا کوئی وار چلنے نہیں دیا تو مجھے کہنے لگا کہ تو میرے ہاتھ سے بچے نکلا اس لیے میں نے کہا۔ابھی نہیں ابھی نہیں۔یعنی جب تک میں مر نہ جاؤں مجھے تجھ سے اطمینان حاصل نہیں ، ( ملفوظات جلد پنجم ص۳۰) " ایک فرانسی بات تکبر اور شرارت بری بات ہے۔ایک فدا سی بات سے منتر برس کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں۔لکھا ہے کہ ایک شخص عابد تھا وہ پہاڑ پر رہا کرتا تھا اور مدت سے وہاں بارش نہ ہوئی تھی۔ایک روز بارش ہوئی تو پتھروں اور روڑیوں پر بھی ہوئی تو اس کے دل میں اعتراض پیدا ہوا کہ ضرورت تو بارش کی کھیتوں اور باغات کے واسطے ہے یہ کیا بات ہے کہ پتھروں پر ہوئی یہی بارش کھیتوں پر ہوتی تو کیا اچھا ہوتا۔اس پر خدا تعالیٰ نے اس کا سارا ولی پن چھین لیا۔آخر وہ بہت ساغمگین ہوا اور کسی اور بزرگ سے استمداد کی تو آخر اس کا پیغام آیا کہ تو نے اعتراض کیوں کیا تھا۔تیری اس خطا پر عتاب ہوا ہے۔اس نے کسی سے کہا کہ ایسا کو کہ میری ٹانگ میں رسہ ڈال کر پتھروں پر گھسیٹتا پھر۔اس نے ایسا کیوں کروں ؟ اس عابد نے کہا کہ جس طرح میں کہتا ہوں اسی طرح کرو آخر اس نے ایسا ہی