واقعات شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 22

واقعات شیریں — Page 7

ہے نیکی کی کشش شش پر انسان کے اندر نیکی اور بدی کی ایک کشش ہے۔آدمی نیکی کرتا مگر نہیں سمجھ سکتا کہ کیوں نیکی کرتا ہے۔اسی طرح ایک شخص بدی کی طرف جاتا ہے لیکن اگر اس سے پوچھا جاوے تو کدھر جاتا ہے تو وہ نہیں بتا سکتا۔مثنوی رومی میں ایک حکایت اس کے لکھی ہے کہ ایک فاسق آقا کا ایک نیک غلام تھا۔صبح کو جو مالک نوکر کونے کو بازار سودا خرید نے کو نکلا تو راستہ میں اذان کی آواز سن کر نوکر اجازت لے کر مسجد میں نماز کو گیا اور وہاں جو اسے ذوق اور لذت پیدا ہوا تو بعد نماز ذکر میں مشغول ہو گیا آخر آقا نے انتظار کر کے اس کو آواز دی اور کہا کہ تجھے اندر کس نے پکڑ لیا۔تو کرتے کہا کہ جس نے تجھے اندر آنے سے باہر پکڑ لیا غرض ایک کشش لگی ہوئی ہے اسی کی طرف خدا نے اشارہ فرمایا ہے كُل يَعْمَلُ عَلَى شا کلتا ہے " دبنی اسرائیل: ۱۸۵) ہر ایک فریق اپنے اپنے طریق پال کرتا ہے (ملفوفات مبل مالا) ایک مومن کی وفات میں یہ یقین جانتا ہوں کہ جس کو دل سے خدا تعالیٰ سے تعلق ہے اسے وہ رسوائی کی موت نہیں دیتا۔ایک بزرگ کا قصہ کتب میں لکھا ہے کہ ان کی بڑی دعا سمتی کہ وہ طوس کے مقام میں فوت ہوں۔ایک کشف میں بھی انہوں نے دیکھا کہ میں طوس میں ہی مردوں گا۔پھر وہ کسی دوسرے مقام میں سخت بیمار ہوئے اور زندگی کی کوئی امید نہ رہی تو اپنے شاگردوں کو وصیت کی کہ اگر میں مر گیا تو مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔انہوں نے وجہ پوچھی تو بتلایا کہ میری بڑی دعا سھتی کہ میں طوس میں مروں مگر اب پتہ لگتا ہے کہ وہ قبول نہیں ہوئی۔اس لیے میں مسلمانوں کو دھوکا نہیں دینا چاہتا۔اس کے بعد وہ رفتہ رفتہ اچھے ہو گئے اور پھر طوس گئے وہاں بیمار ہو کر مرے اور وہیں دفن ہوئے۔اس طرح مومن بننا چاہیے۔مومن ہو تو خدا رسوائی کی موت نہیں دیتا " ) ملفوظات جلد چہارم ص ۱۵۳) " نیست ایک کتاب میں لکھا ہے کہ جنید بغدادی علیہ الرحمہ کو ایک دقعہ خیال آیا کہ سفر کو جانا چاہیے پھر سوچا کس واسطے جاؤں تو سمجھ میں نہ آیا کہ کسی ارادہ اور نیت سے جانا چاہتے ہیں اس لیے پھر ارادہ ترک کیا حتی کہ سفر کا خیال غالب آیا اور آپ جب اسے مغلوب