واقعات شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 22

واقعات شیریں — Page 20

۳۷ ۳۶ لی گئی۔آخر جب آپ کے پیراہن کے اس حصہ کو پھاڑ کر دیکھا گیا۔تو واقعی چالیس مہریں بر آمد ہوئیں وہ حیران ہوئے کہ یہ عجیب آدمی ہے ہم نے ایسا آدمی کبھی نہیں دیکھا اس پر ان کے سردار نے آپ سے دریافت کیا کہ یہ کیا وجہ ہے کہ تو نے اس طرح پر اپنے مال کا پتہ بتا دیا ہے ؟ اس پر آپ نے اپنی والدہ صاحبہ کی نصیحت کا ذکر کر دیا کہ روانگی پر والدہ صاحبہ نے یہ نصیحت فرمائی تھی کہ جھوٹ کبھی نہ بولنا اور کہا کہ میں طلب دین کیلئے گھر سے نکلا ہوں۔یہ پہلا امتحان تھا میں جھوٹ کیوں بولتا۔اگر پہلی ہی منزل پر جھوٹ بولتا تو پھر کیا حاصل کرسکتا۔اس لیے میں نے پہنچ کو نہیں چھوڑا۔جب آپ نے یہ بیان فرمایا تو قزاقوں کا سردار چیخ مار کر رو پڑا اور آپ کے قدموں پر گر گیا اور کہا کہ آہ میں نے ایک بار بھی خدا تعالیٰ کا حکم نہ مانا چوروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس کلمہ اور اس شخص کی استقامت نے میرا تو کام تمام کر دیا ہے میں اب تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا۔اور اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی۔اس کے کہنے کے ساتھ ہی باقی چوروں نے توبہ کرلی۔کہتے ہیں کہ آپ کا سب سے پہلا مریدہ یہی شخص تھا۔میں چوروں قطب بنایا ای اس واقعہ کو سمجھتا ہوں۔الغرض سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پہلے بیعت کرنے والے چور ہی تھے" دیہ واقعہ ملفوظات جلد اول میں۔اور ۳۶۹-۳۷۰ تفاصیل کے فرق کیساتھ درج ہے۔یہاں اس واقعہ کی تفاصیل کی یکجا کر دیا گیا ہے۔مرتب) بادشاہ کا دلجوئی کرتا " ایک چھوٹی سی کتاب میں لکھا دیکھا ہے کہ ایک بادشاہ قرآن لکھا کرتا تھا۔ایک ملا نے کہا کہ یہ آیت غلط لکھی ہے، بادشاہ نے اس وقت اس آیت پر دائرہ کھینچ دیا کہ اس کو کاٹ دیا جائے گا جب وہ چلا گیا تو اس دائرہ کو کاٹ دیا جب بادشاہ سے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا تو اس نے کہا کہ دراصل وہ غلطی پر تھا مگر نہیں نے اس وقت دائرہ کھینچ دیا کہ اس کی دلجوئی ہو جاوے دیکھواس نے بادشاہ ہو کر ایک غریب ملاں کا دل نہ دکھانا چاہا۔“ ( ملفوظات جلد ششم صد ۳۴۲) " بدظنی میں جلدی نہ کرو انسان دوسرے شخص کی دل کی بات معلوم نہیں کر سکتا اور اس کے قلب کے مخفی گوشوں تک اس کی نظر نہیں پہنچ سکتی اس لیے دوسرے شخص کی نسبت جلدی سے کوئی رائے نہ لگائے بلکہ انتظار کرے۔انسان ایک آدمی کو بد خیال کرتا ہے پھر آپ اس سے بدتر ہو جاتا ہے۔کتابوں میں میں نے ایک قصہ پڑھا ہے کہ ایک بزرگ اہل اللہ تھے۔انہوں نے ایک