واقعات شیریں — Page 21
دفعہ خدا تعالیٰ سے عہد کیا میں سب کو اپنے سے بہتر سمجھوں گا اور کسی کو اپنے سے کم تر خیال نہیں کروں گا۔اپنے آپ کو کسی سے اچھا سمجھوں گا۔اپنے محبوب کو راضی کرنے کیلئے انسان ایسی تجویز میں سوچتے رہتے ہیں۔ایک دفعہ ایک دریا کے کنارے پہنچنے دیکھا کہ ایک شخص ایک جواں سال عورت کے ساتھ کنارے پر بیٹھا روٹیاں کھا رہا ہے۔ایک بوتل اس شخص کے ہاتھ میں بھی اس میں سے گلاس بھر بھر کر پی رہا ہے اور اس عورت کو پلاتا ہے ان کو دور سے دیکھ کر اس نے کہا کہ میں نے عہد تو کیا ہے کہ اپنے کو کسی سے اچھا نہ خیال کروں۔اس نے بدظنی کی اور خیال کیا کہ ان دونوں سے تو ہمیں اچھا ہی ہوں۔اتنے میں زور سے ہوا چلی اور دریا میں طوفان آیا۔ایک کشتی آرہی معنی مع سواریوں کے ڈوب گئی۔وہ مرو جو کہ عورت کے ساتھ روٹی کھا رہا تھا اٹھا اور غوطہ لگا کر چھ آدمیوں کو نکال لایا۔اور ان کی جان بچ گئی۔پھر اس نے بزرگ کو مخاطب کر کے کہا تم اپنے آپ کو مجھ سے اچھا خیال کرتے ہو میں نے تو چھ کی جان بچائی ہے اب ایک باقی ہے اسے تم نکالو یہ سن کر وہ بہت حیران ہوا اور اس سے پوچھا کہ تم نے یہ میرا ضمیر کیسے پڑھ لیا اور یہ معاملہ کیا ہے۔تب اس جوان نے بتلایا۔خدا نے مجھے تیرے امتحان کیلئے بھیجا تھا اور تیرے دل کے ارادہ سے مجھے اطلاع دی۔اس بوتل میں اس دریا کا پانی ہے شراب نہیں ہے اور یہ عورت میری ماں ہے اور میں ایک ہی اس کی اولاد ہوں۔قومی اس کے بڑے مضبوط ہیں اس لیے جوان نظر آتی ہے۔خدا نے مجھے مامور کیا تھا کہ میں اسی طرح کہ دن تاکہ تجھے سبق حاصل ہو۔غرض انسان دوسرے کی نسبت جلد رائے نہ لگائے سوء ظن جلدی کرنا اچھا نہیں ہوتا۔“ دیہ واقعہ ملفوظات جلد دوم ۲۳- ۲۴۹ اور ملفوظات جلد چہارم ۲۴۹-۲۴۸ و ص ۲۶۵ ۲۶۶ پر تفاصیل کے فرق کے ساتھ درج ہے۔یہاں اس واقعہ کی تفاصیل کو یکجا کر دیا گیا ہے۔مرتب ) " معرفت الہی سیر میں لکھا ہے کہ ابولحسن خرقانی کے پاس ایک شخص آیا۔راستہ میں شیر ملا۔اور کہا کہ اللہ کے واسطے پیچھا چھوڑ دے۔شیر نے حملہ کیا۔اور جب کہا کہ ابوالحسن کے واسطے چھوڑ دے تو اس نے چھوڑ دیا۔شخص مذکورہ کے ایمان میں اس حالت نے سیاہی سی پیدا کر دی۔اور اس نے سفر ترک کر دیا۔واپس آکر یہ عقدہ پیش کیا۔اس کو ابوالحسن نے جواب دیا کہ یہ بات مشکل نہیں اللہ کے نام سے تو واقف نہ تھا۔اللہ کی سیچی ہیبت اور حلال تیرے دل میں نہ تھا اور مجھ سے تو واقف تھا اسلئے میری قدر تیرے دل میں تھی۔پس اللہ کے لفظ میں بڑی بڑی برکات اور خوبیاں ہیں بشرطیکہ کوئی اس کو اپنے دل میں جگہ دے