حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 79 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 79

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 79 خود نوشت حالات زندگی مجھے پرانے پیروں کی مجلسوں کی ہاؤ ہو اپنے ملک میں اور عربی ممالک میں بھی دیکھنے کا موقع ملا ہے اور جنات کو قابو کرنے والے بھی دیکھے ہیں۔ان سے مجھے سخت نفرت ہے کیونکہ ان کی مجلس میں ریا کارانہ مکر وفریب اور پاکھنڈ کے سوا کچھ نہیں۔مندروں کی حقیقت ایک دن خلیفہ المسح الاول ( نور اللہ مرقدہ) مجھ سے فرمانے لگے کہ کیا آپ کبھی کسی مندر میں گئے ہیں؟ میں نے عرض کیا وہ تو مسلمان کو اندر داخل نہیں ہونے دیتے۔فرمایا کیا بے جان پتھروں کے پجاری سے زندہ خدا کا پرستار مرعوب ہوا کرتا ہے؟ اس دفعہ چھٹیوں میں جب رعیہ جانے کا موقع ملے تو مندر میں جا کر دیکھیں کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔چنانچہ انہی دنوں میں ایک دن صبح رعیہ گاؤں کے مندر میں چلا گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بت کے سامنے پجاری کھڑا بھجن گا رہا ہے۔ہاتھ میں گھنٹی یا چھپنیاں ہیں۔وہ گانے کے ساتھ ناچ رہا ہے اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد بت کے سامنے جھکتا اور ماتھا ٹیکتا ہے۔میں اس نظارے سے کھڑا متاثر ہوا۔جب واپس قادیان آیا تو حضرت خلیفہ اسیح الاوّل ( نور اللہ مرقدہ) نے جو پہلا سوال مجھ سے کیا وہ یہ تھا کہ کیا آپ مندر میں گئے تھے؟ میں نے عرض کی ہاں گیا تھا۔پوچھا کہ کیا کسی نے روکا تو نہیں؟ میں نے کہا نہیں۔فرمایا نور الدین نے نہیں کہا تھا کہ زندہ خدا کا پرستار کسی بت کے پرستار سے مرعوب نہیں ہوتا۔آپ نے پوچھا کہ میں نے اس میں کیا دیکھا۔میں نے کہا کہ میں نے بت کی پوجا پاٹ سے جواثر قبول کیا ہے وہ اس آیت کا مصداق ہے۔قُلْ كُلَّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَاهُدى سَبِيلًاه (سورة بنی اسرائیل: ۸۵) ہر شخص اپنے طریق پر عمل کر رہا ہے۔تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون صحیح راستے پر ہے گو پجاری ایک بت کو پوج رہاتھا لیکن اپنی نادانی میں وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ اپنے پرمیشر کو خوش کر رہا ہے۔میرے جواب سے استاذی المکرم حضرت خلیفہ امسیح الاوّل (نور اللہ مرقدہ) بہت خوش ہوئے جو تربیت میں نے آپ سے حاصل کی اس کے تقاضے سے میں کئی پیروں