حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 64
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 64 خود نوشت حالات زندگی پکڑے جائیں اور برٹش حکومت سارے ملک کو بمبارڈ کرنے کیلئے تیار ہو جائے ؟ یہ تو آپ کے لئے جائز اور لاکھوں کشمیری پامال ہوں اور ان کے بھائیوں کو یہ اجازت بھی نہ دی جائے کہ وہ ان کی جائز مدد کریں۔یہ کہاں کا انصاف ہے؟ اس پر وہ بگڑے اور خان صاحب سے کہنے لگے:۔Well Moulvi Sahib, the gentleman is reflecting on the Britishers۔یہ کہہ کر انہوں نے گھنٹی بجائی اور ہمیں رخصت کیا۔میں نیچے آ کر خان صاحب سے ناراض ہوا کہ آپ نے جواب کیوں نہیں دیا۔ہنستے ہوئے فرمانے لگے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) نے انہیں خط میں یہ ہدایت کی ہے کہ میں نرم پالیسی پر رہوں اور شاہ صاحب اپنے طریق پر گفتگو کریں گے میں نے آکر ایک گرم گرم چٹھی انگریزی میں لکھی۔خان صاحب پڑھ کر بہت خوش ہوئے اسی وقت ٹائپ کروائی اور مسٹر گیلن سی (Gallen-C) کو بھجوا دی۔میں نے اس میں لکھا کہ یہ آپ کے اخلاق اور انصاف کا نمونہ ہے مجھے اتنی دور سے ملاقات کی اجازت دی اور پھر ٹھنڈے دل سے میری بات پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔خان صاحب مرحوم نے مجھے بعد میں بتایا کہ دوسرے دن ہی ان کو (Gallen-C) فون آیا اور گفتگو کا لب ولہجہ معذرت کا تھا۔حضرت خلیفہ اُسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) نے مجھے انہی دنوں ہمارے کشمیر سے نکالے جانے کے اثر کو دور کرنے کی غرض سے پونچھ جانے کا حکم دیا اور میرے وہاں جانے سے ایک کام انجام پایا اور اس کے بعد کشمیر دوبارہ جانے کا راستہ کھل گیا۔کیونکہ پارلیمنٹ میں ہمارے اخراج سے متعلق سوال اٹھا دیا گیا تھا۔مذکورہ بالا فارن سیکرٹری مسٹر یلین کی (Gallen۔C) وہی ہیں جو کشمیر کمیشن کے پریذیڈنٹ تھے۔اس کمیشن کے ممبر مسٹر عباسی اور مسٹر عشائی بھی تھے۔حضور ( نور اللہ مرقدہ) نے مجھے ہدایت فرمائی کہ اصلاحات کے مسودے میں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کے حقوق (میں) کوئی ایسی ویسی شقیں داخل کر دی جائیں جن سے