حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 35
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 35 35 خود نوشت حالات زندگی وَحَضْرَتُكَ اَيُضَامِنُ أَتْبَاعِ الْمَسِیح ) کیا آپ بھی مسیح کے ماننے والے ہیں؟ ) میں نے کہا ای نَعَمُ امَنْتُ بِالْمَسِيحِ الاَوَّلِ وَ الْمَسِيحِ الثَّانِی (جی ہاں میں مسیح اول اور مسیح ثانی دونوں پر ایمان لاتا ہوں ) تو ان میں سے ایک نے کہا وَحَضْرَتُكَ مِنَ الْأَحْمَدِ تین ( کیا آپ احمدی ہیں؟ میں نے کہا اَنَا اَحْمَدی (میں احمدی ہوں ) اور ان سے پوچھا۔آپ جانتے ہیں کہ احمدی کون ہیں؟ کہنے لگے ہاں ان کے دو مربی دمشق میں آئے ہوئے ہیں اور ہمارے عیسی خوری صاحب ان سے مل کر آئے ہیں اور ان کی کتابیں بھی لائے ہیں اور وہ کتابیں ہمیں درسا پڑھ کر سنائی ہیں۔میں نے پوچھا کہ ان کتابوں کے متعلق ان کی کیا رائے ہے وہ کہنے لگے باخدا باتیں تو بالکل سچی ہیں اور ان میں ہماری کتابوں ہی کے حوالے ہیں (یعنی انجیل وغیرہ کے ) اور عیسی خوری صاحب احمدیوں کے خیالات کی تعریف کرتے ہیں۔ان میں سے ایک نوجوان نے کہا۔کیا آپ سید زین العابدین کو جانتے ہیں؟ میں نے کہا میں اسے جانتا تو ہوں۔ایک بوڑھا قسیس جب پانچویں دن عیسائیوں کے ایک مدرسہ میں میری تقریر کا انتظام ہوا تو وہ نوجوان بھی مجھے ملے اور ہنس کر کہا جواب تو آپ نے ٹھیک دیا تھا کہ آپ سید زین العابدین کو جانتے ہیں۔اس سے گذشتہ رات عیسی خوری صاحب کے ہال میں جو بہت وسیع کمرہ تھا عیسائی عورتیں اور مرد جمع ہوئے اور اتفاق سے اس رات ایک بجے تک بارش ہوتی رہی اس لئے گفتگو کرنے کا بڑا موقع ملا۔سب نے اطمینان سے سوالات کئے اور اطمینان سے جوابات سنے۔ان کا آخری سوال الہام اور وحی سے متعلق تھا اور دوران گفتگو میں ان میں سے ایک نے پوچھا کہ وہ کلمات الہام“ جو حضرت احمد پر نازل ہوئے تھے وہ سنائیں۔مجھے کافی یاد تھے اور میں نے سنانے شروع کئے۔سامعین میں میرے قریب ہی ایک بہت ہی بوڑھے قسمیس (پادری) سفید ریش