حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 22 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 22

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 22 خود نوشت حالات زندگی تھے ( سے آپ نے ) فرمایا کہ ولی اللہ شاہ کو وقف کی تحریک کی جائے اور ان سے میرے متعلق اچھی امید کا اظہار فرمایا۔چنانچہ شیخ ( تیمور احمد ) صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ میں مخلص ہوکر دینی تعلیم حاصل کروں اور کالج کی تعلیم کا خیال چھوڑ دوں اور جب (حضرت ) خلیفہ اول (نوراللہ مرقدہ) نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی، حضرت حافظ روشن علی صاحب اور شیخ تیمور کو مفتاح العلوم کا سبق پڑھانے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے مجھ سے بھی فرمایا کہ میں بھی شریک ہو جاؤں۔مجھے عربی کا بہت معمولی علم تھا بلکہ نہ ہونے کے برابر۔میں حیران ہوا بلکہ میرے ساتھی بھی حیران ہوئے لیکن حکم کی تعمیل میں دو تین سبقوں میں شریک ہوا۔مجھے اپنی کمزوری کا نہایت درجہ احساس ہوا۔حضرت حافظ صاحب سے سبق پڑھنے کیلئے جدوجہد کی۔میرے دوست مرزا برکت علی صاحب بھی میرے ساتھ وہی سبق پڑھتے تھے جو میں پڑھتا تھا۔( بیت ) مبارک میں ہمیں حافظ صاحب پڑھا رہے تھے ایک دن مجھ سے کہنے لگے۔تہانوں نہیں عربی اونی میں نے ہنستے ہوئے کہا میرا بھی یہی خیال ہے۔کون زیر زبر پیش کے ساتھ ساتھ ہر دفعہ آنکھیں اُونچی نیچی کرے۔اگر یہ زیرز بر پیش نہ ہو تو پڑھنا ناممکن ہے۔اسی ادھیٹر پن میں تھا کہ پڑھائی جاری رکھوں یا نہ رکھوں۔ایک جمعہ کے دن ( بیت ) مبارک کے اُس حجرہ میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سرخی والا نشان دکھایا گیا تھا بیٹھا پڑھ رہا تھا۔(اسی کمرہ میں میری رہائش تھی ) حضرت خلیفہ اسیح الثانی میرے پاس تشریف لائے اور ادھر ادھر کی باتیں رہاتی شروع کر دیں۔دورانِ گفتگو میں مجھ سے فرمایا۔کیا خیال ہے اگر آپ کو مصر بھیج دیا جائے تو آپ وہاں عربی پڑھیں۔مدرسہ احمدیہ کے لئے بھی ہمیں ضرورت ہے۔میں یہ بات مذاق سمجھا لیکن بار بار فرمایا۔مذاق نہیں یہ اقرار کریں تو ابھی انتظام کیا جا سکتا ہے۔آپ اُٹھے نہیں جب تک کہ مجھ سے پختہ اقرار نہیں لے لیا اور چند دنوں میں میری اور شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے سفر کی تیاری ہوگئی اور حضرت خلیفہ اسیح