حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 83 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 83

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 83 خود نوشت حالات زندگی حواشی باب دوم حاشیہ صفحہ : (۱) پانی پت کی تیسری لڑائی اور مرہٹوں کی افواج کے حالات کیلئے دیکھئے اویماق مغل‘ از مرزا محمد عبد القادر خان مطبوعه امر تسر ۱۹۰۲ء صفحات ۶۴۶ تا ۶۷۰ - حاشیہ صفہ ۲: (۲) حضرت ڈاکٹر سید حبیب اللہ شاہ صاحب کے حالات زندگی کیلئے دیکھئے ”حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب“ باب سوم۔حاشیہ صفحہ ۱۹: (۳) مدرسہ احمدیہ کا قیام جنوری ۱۹۰۶ء میں عمل میں آیا مزید تفصیل کیلئے دیکھئے۔تاریخ احمدیت جلد دوم بار دوم صفحه ۴۱۲۳۹۹) حاشیہ صفحہ ۱۳ (۴) آپ نے دمشق اور بیروت میں بھی دعوت الی اللہ کا کام ابتداء سے جاری رکھا جس کی جھلک ان مکتوبات سے ظاہر ہوتی ہے جو آپ نے حضرت خلیفہ آسیح الثانی کی خدمت میں دمشق اور بیروت سے روانہ کئے۔آپ تحریر کرتے ہیں: محسنم حضرت خلیفتہ المسیح علیہ الصلوۃ والسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ پچھلے سوموار ا پریل ۱۹۱۴ء کو دارالعلوم میں علماء وشر فاء بیروت کا اجتماع ہوا۔صرف میری تقریر قرآن مجید پر مختصر تھی۔جو کہ بعینہ ارسال خدمت ہے۔میری تقریر کے بعد ایک مقرر جو اہل بیروت میں ( اور میرے خیال میں اہل مصر سے بھی بڑھ کر ) سب سے بڑھ کر مقر اور ضیح المسان شیخ ے اٹھا اور پون گھنہ تقریر کی جس کا سارا مقصد میری تقریر کی خوبیوں کا اظہار تھا۔اس کے بعض الفاظ یہ ہیں: بخدا میں حق کو ہرگز نہیں چھپاؤں گا میری عمر ۵ سال سے زیادہ ہے میں نے آج تک کبھی بھی ایسی پر اثر ، پر معنی ، مدلل تقریر نہیں سنی۔بخدا اگر مجھے آج کل کی تہذیب کا خیال نہ ہوتا تو اس مجھی مقرر کے سامنے اُس کی تقریر کے اثناء میں ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا۔اہل عرب کے نوجوانو! تمہاری تجوید حلق میں ہے دل میں نہیں لہذا بخدا قریب تھا کہ اس تقریر کے اثر سے میری چیخیں نکل جاتیں، غرض پون گھنٹہ یہی اس کا موضوع تھا اور کہا کہ یہ عظیم الشان موضوع اور یہ دلائل اور یہ طرز ادا ( بہت اعلیٰ ہے۔۔۔میں اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر بجالایا۔اُسی کا فضل اور میرے محسنوں کے فیضان ہیں ورنہ میں اپنی کم مائیگی کو خوب جانتا ہوں اور میرے احباب بھی واقف ہیں۔جس خدمت کیلئے میرا دل چاہتا ہے اس کے مقابل یہ تو کچھ نہیں۔میں نے یہ مضمون بغیر کسی قسم کی مدد کے لکھا اور میرا خیال تھا کہ لغوسی عبارت ہے مگر میں حیران ہوں کہ میرے شیخ کیوں تعجب کرتے ہیں اور مجھے ان کے تعجب سے شرم آ رہی ہے۔بعضوں نے کہا کہ یہ عبارت مضمون اس کا نہیں۔مجھے خوشی ہوئی کیونکہ جب بیروت میں آیا تھا تو ایک دارالعلوم میں تقریر کی تھی