حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 62 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 62

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 62 خود نوشت حالات زندگی صاحب گلکار وغیرہ کی خوشامد میں شروع کر دیں اور مجھ سے ملاقات کی خواہش کی۔گلکار صاحب نے انہیں اسلام آباد میں پیغام بھیجا کہ یاڑی پورہ کے سفر سے واپس آنے پر میں اسلام آبادان سے مل لوں گا اور آمد کی تاریخ سے اطلاع دے دی جائے گی۔جب یاڑی پورہ سے (انت ناگ) اسلام آباد پہنچا تو بارش ہو رہی تھی۔میرے ساتھ کار میں ہم سفر ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب آف موگا ( تھے )۔جب بارہ بجے شب کے قریب ہم اسلام آباد پہنچے تو معلوم ہوا کہ پنڈت صاحب میرے انتظار میں ہیں چنانچہ میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ملنے گیا وہ ماتھے پر سیندور لگائے فرش پر بیٹھے تھے ان کے سامنے صندوقچی تھی مجھ سے معذرت کرنے لگے۔میں نے کہا آپ کو معلوم ہی ہے آپ نے کیا کچھ کیا ہے۔وہ کچھ چھپنے۔میں نے کہا میں اور باتوں کا ذکر نہیں کرتا آپ نے ہم پر ایک سنگین الزام لگایا۔کہنے لگے ہاں لیکن میں کیا کرتا۔کشمیریوں نے مجھے ایسے خطوط دکھائے جن سے مجھے یقین ہو گیا کہ آپ مہاراجہ کے خلاف کاروائی کر رہے ہیں میں نے کہا آپ ہم سے پوچھ لیتے اور اپنی تسلی کر سکتے تھے کہ واقعی وہ ہمارے خطوط ہیں یا نہیں۔انہوں نے صندوقچی کھولی اور خطوط میرے سامنے رکھ دیئے میں نے ایک خط دیکھا اور انہیں بتایا کہ سب دستخط جعلی ہیں۔کہنے لگے بے ایمانوں نے میرا تین سو روپیہ بھی کھالیا میں نے کہا نہیں چھ سو کھایا ہے۔ہنس کر کہنے لگے تین سوحکومت کا تھا اور تین سو میرا ذاتی۔دوسرے دن جب میں سری نگر پہنچا تو ہاؤس بوٹ میں جو دریائے جہلم میں تھا داخل ہو گئے۔بمشکل ایک گھنٹہ گزرا ہوگا کہ ایک بھری کشتی پنڈت صاحبان کی اپنی طرف آتے دیکھی۔مجھے تعجب ہوا کہ میرے واپس آنے کا انہیں کیسے علم ہو گیا۔وہ ہاؤس بوٹ میں آئے اور بیٹھتے ہی ہاتھ باندھ کر مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ پنڈت بیل کا ک ہمارا رشتہ دار ہے یہ کالا ناگ ہے اس پر رحم کرنا تو بہت بڑا پاپ ہوگا اس کے لئے کسی قسم کی سفارش نہ کی جائے گی۔مجھے بڑا تعجب ہوا کہ انہیں اس قدر جلد کس نے اطلاع دی۔آخر گل کار صاحب سے صورتِ حال(peel) معلوم ہوئی۔