حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 54
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 54 خود نوشت حالات زندگی تھے جو ہاؤس بوٹ کے باہر رہے۔شیخ صاحب نے مجھ سے کہا۔شاہ صاحب ایک خطر ناک خبر ہے۔میں نے کہا مجھے معلوم ہے۔کہنے لگے کیا ؟ میں نے کہا ہمارے مروانے کا انتظام ہو گیا ہے۔وہ یہ سن کر حیران ہوئے اور کہا کہ یہی خبر میں لایا ہوں۔مہاراجہ کے محل کے فلاں کارکن نے بتایا ہے کہ کانگڑہ دہلی سے چار آدمی بلائے گئے ہیں اور ان کے سپرد یہ کام ہوا ہے کہ آپ کو اور مجھے مروا دیا جائے۔میں نے کہا کہ اطلاع درست ہے۔مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کو کس نے بتایا ہے۔میں نے اپنے ذریعہ خبر رسانی بتانے سے معذرت کی۔( دراصل یہ ایک کھلا بیداری کی حالت میں مکاشفہ تھا ور بلند آواز ، احتیاط کرنے کی ہدایت تھی اس لئے بنانے سے ہچکچایا ) انہوں نے کہا کہ کیا تجویز ہے۔میں نے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) کو اطلاع دی جانی چاہئے جو ایک آدمی کے ہاتھ بھیجنی مناسب ہے۔چنانچہ چٹھی لکھی گئی کہ اگر ہم مارے گئے تو اس کی ذمہ داری مہاراجہ صاحب پر ہو گیا ور درخواست کی کہ یہ چٹھی بینک میں محفوظ کر دی جائے۔چنانچہ شیخ صاحب نے بھی اپنی حفاظت کا انتظام کیا اور میں اپنی بندوق اپنی رانوں میں لیکر سوتا۔ہر جگہ جہاں میں گیا اس حالت میں شب گزار تا اور مشہور ہو گیا کہ میں مسلح ہوتا ہوں۔غرض ان پُر خطر حالات میں ہمیں کام کرنا پڑا۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ میری کارروائی کے نتیجے میں مندرجہ ذیل افسر برخاست ہوئے۔مسٹر سالس بری سپیشل آفیسر علاقہ میر پور ۲۔رام چند ڈی آئی جی۔جبری پنشن -۳ چونی لال سب انسپکٹر پولیس - سزائے قید۔یہ جیل سے بھاگ گیا تھا اور اسے دوبارہ گرفتار کرانے کے بعد سزا دلوائی گئی۔مسٹر لاتھر آئی جی پولیس سے میں نے کہا یہ کام محمد دین صاحب سب انسپکٹر (احمدی) کے سپرد کیا جائے اور اس کی دوبارہ گرفتاری کا میں ذمہ لیتا ہوں۔چنانچہ وہ گرفتار ہوا اور اس نے سزا پائی۔۴۔رام رتن کپورتھلوی۔ایم۔اے۔وزیر پونچھ۔یہ بھی وزارت سے علیحدہ کئے گئے۔۵۔بڑو صاحب مجسٹریٹ درجہ اول پونچھ۔بڑ وصاحب کو ملک بدر کیا گیا اور یہ قادیان