حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 37
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 37 خودنوشت حالات زندگی بہت ہی محبت اور عزت ڈال دی۔انہیں بغداد میں میری آمد پر بڑی خوشی ہوئی۔کئی دعوتیں انہوں نے کیں جن میں شہر کے معزز دوست مدعو کئے جاتے رہے۔وہ وہاں وزیر دیوان تھے۔وزراء حکام اور علماء سے تعاون ہوا۔ملک فیصل مرحوم کےسوالات یہاں تک کہ ملک فیصل نے بھی مجھے دعوت دی اور اس دعوت میں بھی چیدہ لوگ مدعو تھے۔دوران طعام رستم حیدر نے احمدیت کا ذکر تعریفی رنگ میں کیا اور احمدیت کے متعلق ملک فیصل مرحوم نے سوالات کئے۔جنگ عظیم کے دوران بھی ان کا تعارف مجھ سے ہو چکا تھا۔جب دجال سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی تو انہوں نے مجھ سے آیت لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ (سورۃ انعام : ۱۰۴ ) کا مفہوم دریافت کیا۔میرے جواب دینے سے پہلے وہ اپنے بھائی علی سے مخاطب ہوئے اور کہا بھائی آپ بڑے عالم ہیں۔آپ اس آیت سے کیا سمجھتے ہیں؟ تفاسیر میں جو انہوں نے پڑھا تھا وہ بیان کیا پھر ملک صاحب مرحوم مجھ سے مخاطب ہوئے کہ میں اس سے کیا سمجھتا ہوں۔میں نے مفصل جواب دیا جس پر وہ اتنے خوش ہوئے کہ بے اختیار کہنے لگے کہ اگر اسلام کے لئے دوبارہ زندگی مقدر ہے تو وہ ان خیالات کے ذریعہ ہے جن کا میں نے اظہار کیا ہے۔کھا ناختم ہوا میں نے فورا شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا:۔"آپ کی مملکت میں ہر مذہب کو تبلیغ کی آزادی ہے حتی کہ آریہ جیسے شدید دشمن اسلام کے لئے بھی اور اگر آزادی نہیں تو اس جماعت کیلئے نہیں جس کے 66 خیالات کے متعلق بادشاہ نے یہ داد دی ہے۔میز سے اٹھتے ہوئے فرمایا آپ کو ان سے بڑھ کر آزادی ہوگی اور جب ہم ڈرائنگ روم میں داخل ہو رہے تھے تو میرے دوست رستم مرحوم نے اپنا منہ میرے کان کے قریب کیا اور کہا وَانتَ تَدْرِى مِنْ اَيْنَ تُوُكِلُ الْكَتِفَ ) آپ جانتے ہی ہیں کہ کس طرح معاملہ نپٹا یا جاتا