حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 116
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 116 کچھ یادیں، کچھ تاثرات فلسطين الحاج امین الحسینی اور السيد صالح الخالدی پرنسپل عرب کا لج بیت المقدس و غیر ہم سے بھی آپ کے گہرے تعلقات تھے۔الحاج امین الحسینی مفتی اعظم فلسطین جب بھی پاکستان آتے تو مکرم شاہ صاحب حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) کی زیر ہدایت ملاقات کیلئے جایا کرتے تھیاور مفتی فلسطین بھی ان سے محبت سے پیش آیا کرتے تھے اور ان کی عزت کیا کرتے تھے۔حضرت شاہ صاحب نے قرآن کریم کی تفسیر اور اس کے حقائق حضرت خلیفہ اوّل ( نور اللہ مرقدہ) سے پڑھے ہوئے تھے اور آپ کے درس سے استفادہ کیا ہوا تھا۔چنانچہ آپ قرآن شریف کے بعض مشکل مقامات کی تفسیر بیان کیا کرتے تو آپ کے کئی عرب ساتھی و اساتذہ دریافت کیا کرتے یا اُسْتَاذُ مِنْ أَيْنَ تَعَلَّمْتَ هَذَا التَفْسِير؟ شاہ صاحب جوابا کہتے تَعَلَّمُتُ مِنَ الْمُفَضَّالِ الشَّيخ نُورِ الدِّينِ۔یعنی حضرت مولوی نور الدین صاحب سے میں نے یہ تفسیر سیکھی ہے یہ واقعہ مجھے الشیخ عبدالقادر المغربي رئيس المجمع العلمي العربی نے بیان کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے حضرت خلیفہ اول اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) کی خاص توجہ سے آپ عربی زبان کے بہترین مترجم اور لکھنے والے تھے۔چنانچہ آپ نے مندرجہ ذیل کتب کے تراجم کئے۔۔اسلامی اصول کی فلاسفی کا (فلسفة الاصول الاسلاميه) کشی نوح کا (التعلیم) پیغام احمدیت کا دعوة الاحمدية و غَرُضُهَا “ کے عنوان سے بہترین ترجمہ کیا۔اسلامی اصول کی فلاسفی کا ترجمہ کرتے ہوئے آپ دیباچہ میں تحریر کرتے ہیں:۔” میں نے ترجمہ پوری دیانت سے کیا ہے جو کہ مترجم کے لئے لفظی ترجمہ کے وقت ضروری ہے۔جس سے وہ انداز بیان مخدوش نہ ہو جو ہر زبان سے مخصوص ہے اور کلمات کا