حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 94 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 94

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 94 ذكر حبيب موعود علیہ السلام ہی بذات خود ہیں۔حضور علیہ السلام نے شفقت سے ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرا اور حضور بہت خوش ہوئے اور ہماری خوشی کی بھی کوئی انتہانہ تھی۔سچی معرفت (الفضل قادیان ۱۸۔اپریل ۱۹۴۳ء صفحه ۳) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں:۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جو نبی علاقہ میں یا شہر میں طاعون نمودار ہوتی تو حضور علیہ السلام نہ صرف اپنے گھر کی صفائی کا حکم دیتے بلکہ بورڈنگ ہاؤس کی صفائی کے متعلق اہتمام فرما تیاور ایسا ہی احباب کو حکم دیتے کہ اپنے گھروں میں گندھک اور آگ اور فینائل اور گگل وغیرہ اشیاء سے جراثیم ہلاک کرنے کا انتظام کیا جائے۔حضور علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اسباب سے کام لینا اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر یہ ادا کرنا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل کے مترادف ہے اور ترک اسباب شریعت الہیہ کے خلاف ہے۔تو کل کا مقام اس کے بعد ہے۔یعنی اسباب کو اختیار کر کے ان پر بھروسہ نہ کیا جائے بلکہ سچی معرفت یہ ہے کہ اسباب کے پیچھے خدا تعالیٰ کے ہاتھ کو دیکھا جائے“۔الفضل قادیان ۱۲۴ پریل ۱۹۴۳ء صفحه ۳) صلى الله فرمودات نبوی ﷺ کی پاسداری حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب اپنے والد ماجد کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں:۔غالبا ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے کہ طاعون پنجاب میں سخت زوروں پر تھی۔راولپنڈی کا ضلع خاص طور پر لقمہ اجل بنا ہوا تھا حضرت والد صاحب مرحوم نے حضور علیہ السلام سے اپنے وطن سیہالہ ضلع راولپنڈی) جانے کی درخواست کی۔مگر حضور علیہ السلام نے اس بناء پر جانے سے روک دیا کہ حدیث میں منع ہے کہ کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں وبا پھیلی ہوئی ہے۔الفضل قادیان ۱/۲۴اپریل ۱۹۴۳ء صفحه ۳)