حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 84
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 84 اور اس میں میں نے بعض سے مدد لی تھی مگر اس میں نہیں لی۔خود نوشت حالات زندگی محسنم ! جہاں تک میری طاقت ہے اور میرا دماغ کام کرتا ہے میں اس کام کیلئے کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھوں گا مگر میں بہت کمزور ہوں۔میں نے ہندوستان میں اس کمزوری اور اس بار عظیم کا کوئی خیال نہیں کیا جناب نے بھی مجھے بہت تحریص دی۔مجھ پر احسان تو کیا مگر مجھے درمیان ہی میں نہ چھوڑیں۔میری کمزوری کو مدنظر رکھ کر بہت دعا سے کام فرماویں۔میرا ارادہ ہے کہ مجھے کچھ عربی آجائے تو پوری ( دعوۃ الی اللہ ) کھل کر کروں۔اہل بیت کو سلام اور احباب درس کو السلام علیکم اور دعا کیلئے سفارش تقریر کے بعد ہال میں ایک عجیب جوش و خروش تھا کہ گویا اب یہ قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر ساری دنیا کو فتح کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔انشاء اللہ یہ سلسلہ خطبات ہر ماہ میں دو دفعہ ہوگا اور ( اللہ تعالیٰ کے فضل سے ) میرا ارادہ ہے اصل ( دین حق پر تقاریر کرتے کرتے حضرت اقدس کے دعوے پر علانیہ ( دعوۃ الی اللہ ) کروں۔واللہ الموفق۔خاکسار ( زین العابدین ولی اللہ ) آپ اس سلسلہ میں شام سے اپنی دوسری رپورٹ اور خط میں تحریر کرتے ہیں:۔شام کی خبر ( الفضل قادیان ۳۰ مئی ۱۹۱۴ء) اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے عربی کیلئے خلوص دل رکھنے والے استاد عطا فرمائے اور نہایت خاطر خواہ انتظام سے تعلیم ہورہی ہے۔میں نے تو ایسے فصیح اللسان مصر میں تو نہیں دیکھے اور نہ اس سے چار گنا کم خالص دل۔وہ لوگ تو دنیا میں دن رات مستغرق۔انہیں فرصت کہاں۔میں نے یہاں میری باتیں سننے والے دین کا شوق رکھنے والے پائے۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک جمعیت بھی ( دعوۃ دین حق ) کیلئے میرے ماتحت قائم ہوگئی ہے۔آج اس کی منظوری کیلئے عبدالجبار والی بیروت کے پاس جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔قوانین جمعیت طے ہو چکے۔مہینہ میں ایک دفعہ ہوا کرے گی۔ٹی پارٹی کے ساتھ کل انشاء اللہ اخبار میں اس کا اعلان کرا دیا جائے گا۔اس میں تقاریر عربی میں ہوں گی انشاء اللہ۔مجھے بڑے شیوخ نے اس کے لئے بہت زور دیا تھا اور میں نے عبدالجبار کو اکسایا۔بحمد للہ اسے یہ رائے پسند آ گئی۔یہاں پر حکومت ایسی جمعیت کی ذرہ مانع ہوتی ہے اس لئے اس مشکل کو یوں حل کیا ہے کہ مدرسہ دارالعلوم کا ایک شعبہ قرار دیا گیا۔الحمد للہ علی ذالک۔