حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 73 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 73

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 73 خود نوشت حالات زندگی کارکنوں کی دیکھا دیکھی درسگاہوں میں بھی فوجی تربیت شروع ہو گئی اور خدام احمدیت نے لاٹھی چارج کام سیکھنے کیلئے اپنا ایک اکھاڑہ بنالیا اور دوسرے لوگوں نے ہماری ریس میں فوجی ٹریننگ شروع کر دی۔۱۹۳۹ ء کے شروع میں گورنمنٹ ہند نے حکما یہ ٹر ینگ ممنوع قرار دے دی)۔خدام الاحمدیہ کی تربیت جب دوسری جنگ عظیم کا زمانہ آیا تو میں نے بحیثیت ناظر امور عامہ حضور سے اجازت طلب کی کہ مجھے اپنے جوانوں کو بھرتی کرانے کی اجازت دی جائے۔آپ نے نہ صرف اجازت دی بلکہ اس کے بارے میں ایک خطبہ جمعہ مخصوص فرمایا اور احمدی نوجوانوں کو پُر زور الفاظ سے ترغیب دلائی کہ وہ فوج میں بھرتی ہوں۔چنانچہ اس کے لئے ایک منظم کوشش کی گئی اور قادیان میں حسب خواہش بھرتی کا دفتر قائم کیا گیا جس کے انچارج افسر مولوی ظہور الحسن صاحب جہلمی تھے۔میری سفارش پر آخر ملٹری ریکروٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے ڈھائی صد روپیہ تنخواہ پانے لگے اور دوسری سہولتیں بھی انہیں بہم پہنچائی گئی تھیں ان دنوں فوجی جلسوں میں مجھے مدعو کیا جانے لگا۔جالندھر کے آخری جلسہ میں وزیر اعلیٰ خضر حیات اور مہاراجہ پٹیالہ نے بھی تقاریر کیں اور افسران ریکروٹمنٹ کی خواہش پر میری تقریر بھی ہوئی۔انہیں دنوں گورنر کے ہاتھ سے مجھے سونے کی گھڑی بطور ہدیہ دی جانے کی تجویز کی گئی میں نے بُرا مانا اور انہیں بتایا کہ میری خدمت ذاتی لحاظ سے نہیں بلکہ جماعتی حیثیت سے ہے اور ناظر امور عامہ جماعت احمدیہ کی یہ ( ہتک) ہوگی کہ وہ ان خدمات کے صلہ میں گورنر کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔افسران متعلقہ سے اپنی ناراضگی کا اظہار کر کے میں قادیان واپس آ گیا اور اس واقعہ کا کسی سے ذکر نہ کیا۔کچھ عرصہ بعد جالندھر سے ایک انگریز فوجی افسر اور میجر سجان سنگھ معذرت کرنے کیلئے قادیان آئے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے بھی ملنے کی خواہش کی۔انہوں نے حضور سے دوران ملاقات آمد کی غرض کا خود ہی ذکر کیا اور بعد میں ایک چٹھی حوصلہ افزائی کی میری طرف بھیجی گئی۔جو احمد یہ میمورنڈم میں موجود ہے اور اس کی نقل منسلک۔ہے۔