حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 63
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 63 خود نوشت حالات زندگی آئی جی ایواش صاحب مسٹر پیل نے مجھے دھمکی دی تھی انہوں نے دعوت میں میری دلداری کی وہ در حقیقت دل میں شرمندہ تھے اور اس لئے چائے کے دوران میٹھی میٹھی باتیں کرتے رہے۔شریف طبع یہ واقعات اختصار سے میں نے اس لئے بیان کئے ہیں تا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) کی نگرانی کے ماتحت ان کے بھیجے ہوئے کارکنان کے کام کی نوعیت معلوم ہو اور یہ کہ مظالم کشمیر کی کس طرح دادرسی کی گئی۔چنانچہ علاقہ سران اور مینڈھیر کے جر مانے معاف ہوئے اور میری دوسری ملاقات میں مہاراجہ صاحب پونچھ نے میرے سامنے قید اور پھانسی کی سزاؤں میں پڑے ہوئے مسلمان سرداروں کی رہائی ہوئی۔آخر ہماری کوشش سے سردار فتح محمد خان صاحب جو موت کے ڈر سے بھاگے پھرتے تھے وہ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اس تختہ دار پر کھنچے جانے والے انسان کے لئے کتنی بڑی خوشی ہے اور ستم رسیدہ لوگوں کی رہائی اور آزادی کتنی بڑی خدمت ہے جو حضور (خلیفہ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہ) کے ہاتھوں سے ادا ہوئی آج اس خدمت کو فراموش کیا جا رہا ہے۔میں نے جو کہا ہے کہ کشمیر کی خدمات کے نتیجے میں انگریز ہم سے بگڑے اور شدید بگڑے اس لئے کہا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) نے مجھے بذریعہ تار ہالم پور بلوایا اور فرمایا خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب شملہ میں ہیں میں وہاں جاؤں اور فارن سیکرٹری مسٹر یلین (Gallen) سے ملوں۔خان صاحب کو میں نے ہدایت بھیج دی ہے۔آپ اپنے طریق پر ان سے بات کریں اور کہیں کہ کشمیر میں کام کرنے سے اب ہمیں روکا جا رہا ہے یہ درست پالیسی نہیں ہے۔نیز جن حالات میں مجھے اور شیخ بشیر احمد صاحب کو وہاں سے نکالا گیا ہے وہ بھی پیش کرو۔چنانچہ میں اخبارات کے بہت سے تراشے لے گیا۔مسٹر گیلن سی (Gallen-C) نے اثنائے گفتگو میں اپنا وہی فقرہ دہرایا۔اتفاق سے ان دنوں چار انگریز جاسوس روس میں گرفتار کئے گئے تھے اور ملاقات سے ایک دن پہلے میں نے اخبار میں پڑھا که برٹش گورنمنٹ نے روس کو بمبارڈ کرنے کی دھمکی دی ہے میں نے کہا چار انگریز جاسوس