حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 36 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 36

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 36 36 خود نوشت حالات زندگی بیٹھے تھے۔کمر کمان کی طرح، پادریوں میں ان کا منصب بہت بڑا تھا جیسا کہ ان کے عصا اور کمر کی ڈوری اور نشانات سے ظاہر تھا۔ان کے ابرو جھکے ہوئے ،شکل متبرک انسان کی سی ، وہ اپنے عصا کا سہارا لیتے ہوئے اٹھے اور دائیں بائیں سامعین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہنے لگے هَؤُلَاءِ بِنَاتِي وَأَبْنَائِي يَعْلَمُونَ جَيِّدًا أَنِّي لَمْ أَدَاهِنُ فِي حَيَاتِي قَطُّ فَهَا إِنَّى أَشْهَدُ هَؤُلَاءِ جَمِيعًا فَإِنِّي مَنْتُ بِالْمَسِيحِ الثَّانِي كَمَا آمَنُتُ بِالْمَسِيحِ الْاَوَّلِ ( یہ میرے بیٹے اور بیٹیاں بخوبی جانتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی مداہنت نہیں کی۔پس میں آج ان تمام لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ جس طرح میں مسیح اوّل پر ایمان لاتا ہوں ایسا ہی مسیح ثانی پر بھی ایمان لاتا ہوں۔مرتب) اور یہ کہہ کر بڑے وقار اور خاموشی سے بیٹھ گئے اور ہال میں سناٹا چھا گیا۔بارش مدھم ہو چکی تھی اور ایک کونے میں ایک صوفی منش بزرگ مسلمان ہماری باتیں سن رہے تھے۔عیسی خوری صاحب نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ یہ عالم اور صوفی ہیں اور ان کے بچپن کے دوست اور کہا۔آپ کی کتابیں میں نے ان کو پڑھا دی ہیں یہ آپ کے خیالات سے متفق ہیں اور آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی جماعت میں داخل ہونے کی کیا شرائط ہیں۔میں نے مکرم شمس صاحب (حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب) کا پتہ دیا اور آخر اُن کے ذریعہ وہ جماعت میں داخل ہو گئے۔دوسرے دن ہم تقریر کرنے کے بعد معہ اہلیہ اور برادرنسبتی بغداد کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں آسوری قبائل میں گذر ہوا۔انہیں پیغام احمدیت پہنچاتے ہوئے تربیتی رسالہ الـحـقــائـق (عن الاحمديه) تقسیم کرتے ہوئے دسویں دن ہم بغداد پہنچے۔بغداد میں میرے قدیم دوست اور نہایت ہی محب دوست مرحوم رستم حیدر تھے جو صلاح الدین ایوبیہ کالج میں ناظم الدروس تھے اور تاریخ عام کے پروفیسر تھے۔یہ سور بون یو نیورسٹی (فرانس) کے تعلیم یافتہ اور بہت قابل تھے۔زبان عربی کے بھی ادیب تھے۔اللہ تعالیٰ نے اُن کے دل میں میری