حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 24 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 24

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 24 خود نوشت حالات زندگی یہ میری تعلیمی جدوجہد کی مختصر سرگذشت ہے۔(مشارالیہ سند مع قیمتی لائبریری ۱۹۴۷ء (میں) بوقت تقسیم لوٹ میں ضائع ہو گئی) صلاح الدین ایوبیہ کالج میں مجھے تاریخ ادیان انگریزی اور اُردو پڑھانے کا موقع ملا اور شام میں انگریزوں اور امیر فیصل کی افواج کے داخل ہونے کے بعد مجھے سلطانیہ کالج کا وائس پرنسپل منتخب کیا گیا اور یہاں علم النفس (Psychology) اور علم الاخلاق (Ethics) کے مضامین دیئے گئے۔اسیری اور رہائی اکتوبر ۱۹۱۸ ء کے آخر میں جنرل ایلیٹ کے حکم سے جوڈیشل ملٹری نے مجھے حراست میں لیا اور بطور اسیر جنگی اور اسیر سیاسی قاہرہ لے گئے اور جنگ ختم ہونے کے بعد مئی 1919ء کے اواخر میں لاہور لایا گیا۔بظاہر میں حکومت برطانیہ کا شاہی قیدی تھا لیکن حقیقت میں آسمانی اسیر تھا جس سے سلسلہ کے لئے کئی ایک خدمات لینا منشائے الہی تھا۔یہاں حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مجھے آزاد کروایا۔ان دنوں پنجاب کے گورنر ریڈ وائر (Redwire) تھے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب، چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور ( حضرت شیخ یعقوب علی) عرفانی صاحب وغیرہ ان کے پاس لاہور بھیجے گئے۔اس تحریری ہدایت کے ساتھ کہ اگر پچاس ہزار روپیہ کی ضمانت بھی دینی پڑے دی جائے۔غرض مجھے قادیان جانے کی اجازت دی گئی۔اس پابندی کے ساتھ کہ اگر باہر کسی جگہ جانا ہو تو گورنمنٹ کو اطلاع دینا ضروری ہوگا اور یہ نگرانی دیر تک رہی۔سلسلہ عالیہ احمدیہ میں خدمات قادیان میں سب سے پہلے جو خدمت میرے سپرد ہوئی وہ نظارت امور عامہ کی خدمت تھی۔ان دنوں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ناظر امور عامہ تھے اور نظارتیں قائم ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا۔آپ نے تین ماہ کی رخصت لی اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) نے بطور تجربہ ان کی غیر حاضری میں مجھے قائم مقام مقرر فر مایا اور با قاعدہ خدمت