حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 117
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 117 تسلسل بھی نہ ٹوٹے جو عربی زبان کی جملہ زبانوں سے امتیازی عربی ہے۔کچھ یادیں، کچھ تاثرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات میں ایک خاص شوکت اور روحانی تاثیر پائی جاتی ہے ترجمہ کرتے وقت اس کا قائم رکھنا ایک انتہائی مشکل کام ہے مگر حضرت شاہ صاحب مرحوم نے اس خوبی کو ( حتی الوسع ) قائم کر کے دکھا دیا۔علاوہ ازیں حضرت شاہ صاحب نے حَيَاةُ المَسيحَ وَ وَفَاتُه تحریر کر کے وفات مسیح کے موضوع پر نہایت مدلل کتاب تحریر کی۔ایک دفعہ یہ کتاب میں نے السيـــد مــحســـن البرازي وزیر اعظم شام کو پیش کی۔پڑھنے کے بعد کہنے لگے کہ احمدیت کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے مسلمانوں کو حیات مسیح جیسے گمراہ کن مسئلہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس کے علاوہ آپ نے بخاری شریف کا ترجمہ اور تشریح اور دیگر کتب کا ترجمہ بھی کیا۔مکرم شاہ صاحب عرب ممالک میں تین دفعہ تشریف لے گئے۔پہلے آپ ۱۹۱۳ء میں گئے تھے۔بعد ازاں ۱۹۲۵ء میں مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس کے ساتھ دمشق تشریف لے گئے۔تقریباً چھ ماہ تک آپ نے دمشق میں قیام کیا۔وہاں آپ نے شادی بھی کی۔آپ کے برادر نسبتی السید اح فائق الساعاتی ( تھے ) جو محکمہ پولیس کی ایک کلیدی آسامی میں کام کرتے تھے )۔تیسری مرتبہ آپ ۱۹۵۶ء میں تشریف لے گئے اور تقریباً دو ماہ قیام کیا۔اس عرصہ میں آپ بیروت بھی تشریف لائے تھے۔مکرم شاہ صاحب موصوف سلسلہ کے ان بزرگوں میں سے تھے جن کو خدمت سلسلہ کی خاص سعادت نصیب ہوئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہو ) کے خاص رفیق اور مخلص فرزندِ احمدیت تھے۔آپ نے ایک طویل عرصہ تک امتیازی خدمات سرانجام دیں۔آپ کو تفسیر قرآن، حدیث اور عربی ادب سے خاص شغف تھا اور بہترین علمی ذوق رکھتے۔اللہ تعالیٰ حضرت شاہ صاحب کے نقش قدم پر ہم سب کو چلائے اور جملہ عزیزوں کو صبر جمیل بخشے۔روزنامه الفضل ربوہ ۱۹مئی ۱۹۶۷ء)