حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 77
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 77 خود نوشت حالات زندگی ذکرِ حبیب یہ مضمون نامکمل رہے گا اگر میں دو تین چشم دید واقعات بطور مثال وعبرت بیان نہ کروں جن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاثیر قدسی کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ہر مبائع جس کا ہاتھ آپ کے دست مبارک سے چھوا اور آنکھوں نے آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھا اور معبودِ حقیقی کی محبت میں آپ کی ربودگی و وارفتگی کا مشاہدہ کیا اور جس کے کانوں اور دل میں آپ کے کلمات مبارک جاگزین ہوئے ان کی زندگی میں ایک پاکیزہ انقلاب پیدا ہو گیا۔حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی دعوۃ الی اللہ کے اثرات بتایا جا چکا ہے کہ والدم حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب سابقہ تحصیل رعیہ ضلع سیالکوٹ ( حال تحصیل و ضلع نارووال) کے شفا خانہ میں انچارج ڈاکٹر تھے جن دنوں کا واقعہ بیان کرنے لگا ہوں ان دنوں میری عمر چھ سات برس سے زیادہ نہ تھی۔تحصیل کے افسران تحصیلدار، نائب تحصیلدار ناظر اور انچارج تھا نہ کبھی حضرت والد صاحب کی بہت عزت کرتے اور ان سے حسن عقیدت رکھتے۔ان کی مستورات کا ہمارے گھر آنا جانا تھا۔خواہ مسلم ہوں یا ہندو یا عیسائی۔ان میں سے ایک ناظر حضرت والد صاحب کے بڑے عقیدت مند تھے۔لیکن ان کا اپنا حال یہ تھا کہ راگ و ساز کے شیدائی اور ان کے لوازمات میں کھوئے ہوئے تھے۔ایک دن ان کے بچوں سے ملنے ان کے ہاں گیا ڈھولکی اور سارنگی کی آواز سن کر باہر کے ایک کمرے میں جھانکا۔ساری مجلس مست و مگن تھی۔لیکن ناظر صاحب کچھ شرمائے۔سیدوں کی بڑی قدر کرتے تھے۔گانا بجانا تو کچھ دیر کیلئے بند ہوگیا اور مجھے اندرون خانہ بھجوا دیا۔ان کی دنیا کی رنگ رلیوں سے شغف میں ان کی ہر خاص و عام میں شہرت تھی۔اب تک ان کی شکل نہیں بھولتی۔بڑی بڑی مونچھیں اور داڑھی صاف۔جب میں قادیان آیا تو ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب سجدہ میں سرنگوں ہیں اور نہ معلوم اپنے مولا سے کس قسم کے راز و نیاز کی کیفیت میں