حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 76
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 76 خودنوشت حالات زندگی فوج میں ایک بن باشی ( میجر ) محی الدین بیک بھی تھے۔انہوں نے بعض احمقانہ غلطیاں کی تھیں جن کی وجہ سے ہمیں کرند کی لڑائی لڑنا پڑی۔لڑائی سے بچنے کیلئے انہوں نے غالباً جمال گھوٹے کا مسہل لے لیا۔خونی پیچش سے وہ سخت بیمار ہو گئے۔حسین رؤف پاشا نے انہیں ان زخمیوں میں شامل کیا۔ترکی افسران سے اس قدر ناراض تھے کہ ان میں بعض نے مجھے اشارہ کیا کہ ( محی الدین ) کو راستے میں ہی ختم کر دیا جائے۔میری اقامت حسین رؤف پاشا کی قرارگاہ میں تھی اور قریباً تمام افسر میرے ساتھ بے تکلف تھے۔محی الدین اور میرا اردلی مشترکہ تھا اور رہنا سہنا بھی اکٹھا۔ان کے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ کہیں جمال پاشا سے جو بڑی اور بحری فوج کے کمانڈرانچیف تھے ان کی غلطیاں بیان نہ کر دوں۔جمال پاشا نے مجھے جرمن ماؤزر (Mouser) بطور ہدیہ دیا تھا جس میں گیارہ گولیاں بیک وقت استعمال ہو سکتی تھیں اور وہ ماؤزر (Mouser) تہہ ہوکر ایک ہاتھ برابر ہو جاتا تھا اور آسانی سے پہلو میں لٹکایا جاسکتا تھا ( سردار فقیر محمد خان نے میرے اس ماؤزر اور دیگر اسلحہ کا ذکر بھی اپنی تقریر میں کیا تھا ) محی الدین بیک نے مجھ سے کہا کہ ہم ایسے علاقہ میں سفر کرنے والے ہیں جہاں کوئی خطرہ نہیں۔یہ ماؤز ر صندوق میں بند کر دیا جائے۔چنانچہ مشتر کہ صندوق میں محمد نامی اردلی کے ذریعہ سے مقفل کر دیا گیا۔یہ اردلی از میر کا باشندہ تھا۔دوسرے پڑاؤ پر اس نے مجھ سے کہا کہ اپنا ریوالور دیں تا کہ صاف کردوں۔میں نے دے دیا اور ساتھ ہی یہ شبہ گذرا کہ ہو نہ ہو میجر مجھے کسی بہانے سے غیر مسلح کر رہا ہے۔اردلی نے دوسرا ریوالور بھی صاف کرنے کیلئے مجھ سے طلب کیا۔میں نے کہا کہ یہ صاف ہی ہے اگلے روز تیسرے پڑاؤ پر جو قزل ارباط کے بعد تھا میں نے اردلی سے کہا کہ میرا ریوالور لاؤ۔قسم کھا کر کہنے لگا کہ وہ تو فلاں چشمہ پر بھول آیا ہوں۔مجھے اس کی قسم پر شبہ ہوا میں خاموش رہا۔میری عادت تھی کہ نماز شام وغیرہ باہر جا کر کسی سبزہ زار میں پڑھتا تھا تیسرے پڑاؤ میں عشاء کے وقت نماز سے فارغ ہو کر جب لوٹا تو رات اندھیری تھی۔ایک چوبارے میں میں اور محی الدین بیک مقیم تھے۔