حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 75
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 75 خود نوشت حالات زندگی I shall be obliged if you please issue instructions to your assistants to redouble their efforts so that we may succeed in securing twice the number of recruits in an equal time۔I certainly hope you will continue to give your help in future۔Sd/- Tehnical Recruiting Officer Jullundur۔بوقت تقسیم ان سات ہزار فوجی ملازمین جن کا ذکر چٹھی میں کیا گیا ہے سے احمدی نوجوان رخصت لیکر یا فوجی خدمت سے آزادی حاصل کر کے قادیان کی حفاظت کیلئے آموجود ہوئے جب کہ قادیان سکھوں کے نرغے میں گھری ہوئی تھی۔ہماری ٹریننگ اور بھرتی اللہ تعالیٰ نے ضائع نہیں ہونے دی۔فالحمد للہ علی ذالک حسین پاشا نے میرے ساتھ قادیان جانے کا وعدہ کیا اور کہا کہ وہ پشاور سے واپسی پر بذریعہ تار اطلاع دیں گے چنانچہ میں لاہور ان کا انتظار کرتا رہا۔ان کا پروگرام تھا کہ لاہور اسٹیشن پر ہی میں ان سے ملوں اور پھر اکٹھے گاڑی پر امرتسر سے قادیان جائیں۔انہوں نے منتظمین کو بذریعہ تار اطلاع دی لیکن مجھے عملاً اطلاع نہ دی گئی اور اس کی تفصیل سالک صاحب مرحوم نے حضرت صاحب کو بتائی اور مجھے بتایا کہ پاشا صاحب نے جب مجھے اسٹیشن پر موجود نہ پایا تو بار بار افسوس کا اظہار کیا کہ میرا دوست کیا خیال کرے گا کیونکہ ایران کی دوسری لڑائی زیادہ سخت تھی لیکن دشمن مغلوب ہوا اور اس نے راہ فرار اختیار کی رسالہ کو تعاقب کا حکم ہوا اور میں بھی تعاقب کرنے والوں میں تھا۔ان کے مردے ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے۔سڑاند سے سانس لینا مشکل تھا خون پر گھوڑے دوڑاتے اور خندقیں پھلانگتے ہم نے ان کا پیچھا کیا۔ترکی فوج کا بھی جانی نقصان ہوا اور دوسرے یا تیسرے دن مجھے حکم ہوا کہ میں زخمیوں اور بیماروں کو بغداد پہنچاؤں۔آلودز مین پرط