حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 60 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 60

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 60 خود نوشت حالات زندگی کی غرض سے میرا یہ سفر ہے۔امام جماعت احمدیہ صدر کشمیر کمیٹی کے اخلاق فاضلہ کا ایک نمونہ (میں نے ) دوسرے دن رپورٹ مرتب کی اور نقشہ جات مقامات فساد زدہ بھی تیار کئے۔مسٹر جارڈین نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں ان سے یہاں نہ ملوں۔اسی دن وہ سرینگر چلے گئے۔میں قادیان آیا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) کے سامنے رپورٹ پیش کی۔آپ نے فرمایا کہ آپ کا پہلا اخلاقی فرض یہ ہے کہ رام رتن صاحب ایم۔اے وزیر پونچھ کو خط لکھوں اور ان کو اصلاح حال کا موقع دوں اور اگر وہ اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا ئیں تو پھر سرینگر جا کر حکام بالا کو صورت حال سے آگاہ کروں۔چنانچہ میں نے مفصل خط لکھا جو حضور نے ملاحظہ کیا اور اس میں مناسب اصلاح فرمائی۔خط میں انہیں ہفتہ عشرہ کی مہلت دی گئی۔دراصل میرے نزدیک بغاوت کو ہوا دینے اور ظلم کروانے والے یہ اور بڑو صاحب تھے۔( یہ دونوں بغاوت فرو کرنے کے بہانے سے اس لئے داد لینی چاہتے تھے کہ بڑا تیر مارا ہے) انہوں نے میرے خط کی پرواہ نہ کی بلکہ میرے خلاف کارروائی کرنے کیلئے سری نگر پہنچے۔میں بھی سرینگر پہنچ گیا اور مسٹر لاٹھیہ آئی جی پولیس سے معلوم ہوا کہ میرے خلاف انہوں نے سخت رپورٹ کی ہے۔میں دوسرے دن صبح ، یہ معلوم کرنے کیلئے کہ وہ کس کس افسر سے ملے ہیں اور کیا باتیں کیں ہیں، ان کی کوٹھی پر چلا گیا اور باتوں باتوں میں سب کچھ معلوم کر لیا۔اس ملاقات میں میرے ساتھ مرحوم ملک محمد حسین بیرسٹر نیروبی تھے جو ان دنوں سیر و سیاحت کیلئے سری نگر گئے ہوئے تھے۔وزیر صاحب مجھے معانقہ کے ساتھ ملے اور اس طرح مجھے الوداع کیا ( معانقہ کا مفہوم میں سمجھتا تھا) اور مجھ سے گلہ کیا کہ میں پونچھ کا دورہ چپکے چپکے کر آیا ہوں اور علاقے کے متعلقہ افسروں کو خدمت کا موقع نہیں دیا ( میں اس خدمت کا مفہوم سمجھتا تھا) چنانچہ سرینگر میں میں وزیر اعظم مسٹر کالون سے ملا اور رپورٹ پیش کی اور اس کی کاپی مسٹر جارڈین محلہ