حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 53 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 53

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 53 خود نوشت حالات زندگی موصوف کے ہاں مقیم تھے۔میں نے حضور کا سابقہ پیغام دُہرایا۔انہوں نے مجھ سے میری اقامت گاہ کا پتہ نوٹ کیا اور کہا کہ الگ جا کر وہ اس بارہ میں گفتگو کریں گے)۔قادیان بذریعہ تار بتلایا گیا کہ مجلس مشاورت میں شریک ہوں۔جب فارغ ہو کر دہلی دوبارہ آیا تو شیخ صاحب موصوف کشمیر واپس جاچکے تھے اور اُن سے ملاقات نہ ہو سکی۔وہ ان سے آخری ملاقات تھی۔حضور کے قیمتی مشورے کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے آج جو خمیازہ بھگت رہے ہیں وہ سب پر عیاں ہے۔کشمیر میں غیر معمولی حالات میں خدمات جن خطر ناک حالات میں کشمیر میں کام کرتے وقت ہمیں سامنا ہوا وہ ہر کارکن جانتا ہے کہ حکومت کی طرف سے طویل جدوجہد کے اثناء میں جو جون ۱۹۳۱ء میں شروع ہوئی اور ۱۹۳۶ء کے آخر تک جاری رہی۔ہمیں حکومت کشمیر کی طرف سے قدم قدم پر رکاوٹیں اور دھمکیاں دی گئیں بلکہ گرفتاری کے وارنٹ تک جاری ہوئے۔چوہدری عزیز احمد صاحب باجوہ ( موجودہ ایڈیشنل کسٹوڈین) بھی ان کارکنوں میں سے ایک تھے جن کے گرفتاری کے وارنٹ مسٹر سالس بری پیشل آفیسر میر پور کے حکم سے صادر ہوئے اور وہ لاہور میں آچھپے۔انہوں نے میر پور میں کام کیا تھا وہ دشوار گزار علاقے میں پیدل سفر کر کے مظلوموں کی مدد کو وہاں پہنچے جہاں چونی لال سب انسپکٹر نے نہایت ہی گندے ظلموں کا ارتکاب کیا تھا اور رام چند ڈی آئی جی پولیس نے ظالموں کو پناہ دی اور ہمارے کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے۔اس قسم کے ظالم حکام کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے میں بھیجا گیا اور واپس پہنچنے کیلئے مجھے بھی جموں وکشمیر اور پونچھ میں دور ونزدیک علاقہ جات کے پیدل اور گھوڑے پر سفر کرنے پڑے۔ظالموں کی فہرستیں تیار کیں۔مظلوموں کے بیانات سنے اور نقشے بنائے اور ہسٹری شیٹ تیار کی۔اسی اثناء میں ایک دن جب کہ میں ہاؤس بوٹ میں تھا شیخ محمدعبداللہ صاحب عصر کے بعد آئے۔سر ننگے، آواز میں گھبراہٹ تھی۔بخشی غلام محمد صاحب ان کی حفاظت کیلئے پیچھے پیچھے