حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 49
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 49 خود نوشت حالات زندگی پر قہقہے کی آواز سنائی دی۔مسٹر پیل بھی ہنسے اور مجھ سے کہا کہ اگر ہو سکے تو الیکشن کے دن میں شہر میں نہ رہوں۔میں نے اپنی نوٹ بک نکالی اور انہیں بتایا کہ میں اس دن بانڈی پورہ میں ہوں گا۔( کیونکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ چونکہ بانڈی پورہ کا محاذ انتخاب کمزور ہے۔میں وہاں جا کر اس محاذ کو مضبوط کروں۔یہ ہمارا مشورہ آپس میں طے پایا تھا کیونکہ سری نگر میں ہمارا موقف مضبوط ہو چکا تھا) چنانچہ مسٹر یل اور کرنل کالون وزیر اعظم مجھ سے متفق ہو گئے اور میں بذریعہ کشتی ایک دن قبل بانڈی پورہ ایک دوکارکنان کے ساتھ پہنچ گیا۔2 کشمیریوں کے لئے جد و جہد اس جدو جہد میں شیخ عبداللہ صاحب کامیاب ہوئے اور بالآ خر اسمبلی کا انعقاد ہوا۔میں نے اُن سے کہا کہ visitors gallery کا ایک ٹکٹ میرے لئے بھی لیتے آئیں۔عصر کے وقت وہ آئے اور بتلایا کہ ٹکٹ ختم ہو چکے ہیں۔میں نے کہا کوئی بات نہیں میں کارروائی آپ سے سن لیا کروں گا اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) صدر کشمیر کمیٹی کو اطلاع بھیجتا رہوں گا۔شام کو سیر کرتے ہوئے میں سرد لال چیف جسٹس پریذیڈنٹ اسمبلی سے ملنے گیا اور اُن سے اپنی ذاتی خواہش کا بھی اظہار کیا کہ میں کارروائی سننا چاہتا ہوں اگر Visitor پاس مہیا ہو جائے۔تو فرمانے لگے آپ کو اس کی کیا ضرورت ہے آپ کی کرسی میں وزراء کے قریب رکھواؤں گا کیونکہ آپ نے بڑی محنت کی ہے۔صبح پندرہ منٹ پہلے اسمبلی ہال میں پہنچ جائیں۔میں کچھ متعجب ہوا لیکن اگلی صبح اسمبلی روم کے برآمدہ میں پہنچا تو مجھے دیکھ کر اُن کے سیکرٹری جو ایک پنڈت تھے اور تازہ سیندور ان کی پیشانی پر لگا ہوا تھا ہاتھ باندھتے ہوئے آگے بڑھے اور کہنے لگے حضور شاہ صاحب ! تشریف لے آئیں اور وزراء کی نشستوں کے اخیر دائیں طرف اشارہ کر کے بتایا کہ وہ میری کرسی ہے جس کے متعلق سر دلال نے مجھے ہدایت کی ہے۔آپ وہاں تشریف رکھیں۔میں نے اسمبلی کی کارروائی تین دن سنی اور حضرت خلیفتہ اسی ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اس کی کارروائی سے مطلع کرتا رہا۔شیخ محمد عبداللہ صاحب visitors