حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 48
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 48 خود نوشت حالات زندگی اور میں اس کے ساتھ کار میں گیا۔گورنر صاحب مسکراتے ہوئے مجھے تپاک سے ملے۔کہنے لگے کہ کل شام آپ نے بہت عمدہ تقریر کی ہے جو رات ہی کو کونسل میں پڑھی گئی اور بتایا کہ کونسل کانفرنس قائم کرنے کی اجازت دیتی ہے بشرطیکہ میں تحریری ذمہ داری لے لوں کہ کوئی فساد نہیں ہوگا۔چنانچہ مسودہ کی عبارت لکھی گئی اور میں نے دستخط کر دیئے اور شیخ محمد عبداللہ صاحب کو دوسرے تیسرے دن تحریری اجازت مل گئی۔یہ وہ کانفرنس ہے جو بہ محاورہ انگریزی زبان Bone of contention بن گئی ہے لیکن اس کا نفرنس نے اپنے وقت پر بہت بڑا کام انجام دیا۔اسی کے بل بوتے پر الیکشن کامیابی سے لڑا گیا اور اسمبلی قائم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔مسٹر پیل آئی جی پولیس نے مجھے اس کے لئے سری نگر میں کام کرتے دیکھ کر بلایا اور مشورہ دیا کہ میں واپس پنجاب چلا جاؤں کیونکہ شیر پارٹی اور میر واعظ محمد یوسف پارٹی کے درمیان رسہ کشی ہے اور اشتعال بڑھ رہا ہے۔گرفتاریاں ہوں گی اور ممکن ہے کہ حکومت کو مجھے بھی گرفتار کرنا پڑے۔میں نے مسٹر پیل سے کہا کہ ہندوستان میں بھی الیکشن کی مہمیں جگہ جگہ لڑی جارہی ہیں اور غالباً وہاں کی کشمکش بھی میری طرف ہی منسوب کی جائے گی Give a dog bad کی مثال ہوگی اگر مجھے نکالا گیا اور میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال بھی گورنر کے حکم سے مجھے نکلنے کا حکم پہنچا تھا۔میں نہیں نکلنا چاہتا تھا لیکن بدقسمتی سے میرے ساتھ ایک مشیر قانونی ( مکرم شیخ بشیر احمد صاحب کی طرف اشارہ ) تھا لیکن اب میں name and kill it مشیر قانونی کے بغیر ہوں۔آپ مقدمہ چلائیں یا ز بر دستی نکالیس از خود نہیں جاؤں گا۔انہوں نے کہا پرائم منسٹر کی یہی خواہش ہے کہ میں چلا جاؤں۔میں نے کہا انہیں میری طرف سے کہہ دیں کہ جب امن بحال کرنے کی ضرورت تھی یا کوئی مشکل پیش آئی تو مجھ سے مدد لی جاتی رہی ہے۔میر پور میں بھی لی گئی، جموں میں بھی اور یہاں بھی۔اب میر واعظ کی اشتعال انگیزی میری طرف منسوب کر کے مجھ سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ میں یہاں سے چلا جاؤں۔انگریز دوست بہت خود غرض ہیں۔مسٹر بیل نے میری موجودگی میں ہی فون کیا اور فون