حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 31 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 31

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 31 خود نوشت حالات زندگی دمشق میں خدمات کی سہ بارہ توفیق تیسری بار جولائی ۱۹۵۶ء میں دمشق بھیجا گیا۔جہاں مجھے تین ماہ قیام کا موقع ملا اور دمشق میں ایک مضبوط جماعت دیکھ کر میرے جسم کا رواں رواں متاثر ہوا۔(حَتَّى بَلَّ دَمْـعِـي مسجدی ) ۱۹۴۵ء میں مجھے ایک خارق عادت مفصل عجیب مکاشفہ کا مشاہدہ ہوا تھا جس کی تفصیلات نو سال کے عرصہ پر ممتد ہیں اور جس طرح دکھایا گیا واقعات ہو بہو اس طرح ظہور (پذیر) ہوتے رہے۔میں نے اس مکاشفہ میں دیکھا کہ (۱) پنجاب میدانِ کارزار بنا ہوا ہے۔(۲) سکھوں کی یلغار ہے (۳) تاریکی چھائی ہوئی ہے۔(۴) میں کار میں ہوں۔(۵) میری اہلیہ حکمت میرے ساتھ ہے۔(۶) سکھ میرا پاسپورٹ چھیننا چاہتے ہیں۔(۷) میں ایک رقعہ پر طرح دے کر ان کے ہاتھ سے نکل جاتا ہوں۔(۸) اس کے بعد معا رات ایک کمرہ میں گزارتا ہوں۔(۹) بارش ہورہی ہے۔(۱۰) اور اسی اثناء میں اپنے تئیں جیل کی کوٹھری میں دیکھتا ہوں۔(۱۱) ایک نشیمن ہے۔(۱۲) اس پر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتا ہوں۔(۱۳) کبھی میں امام ہوتا ہوں (۱۴) اور کبھی ایک اور شخص ہے (۱۵) جس کے پیچھے میں نماز پڑھتا ہوں اور اس نشیمن میں میری ایسی کیفیت ہے (۱۶) کہ میں دنیا سے بالکل منقطع دیکھتا ہوں اور تبتل الی اللہ کی سی کیفیت ہے۔(۱۷) اسی اثناء میں میں کیا دیکھتا ہوں کہ میاں منصور احمد صاحب ( ابن صاحبزادہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب) میرے دائیں طرف کھڑے میرے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں (۱۸) اور پھر دیکھتا ہوں کہ میاں مبارک احمد صاحب (ابن حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ بھی ہیں (۱۹) اور وہ بھی نماز میں ہیں۔اتنے میں جیل کی کوٹھڑی کا دروازه خود بخو دکھلتا ہے (۲۰) وہاں سے نکل کر میں نے دوڑ نا شروع کر دیا۔(۲۱) دور ایک شہر دیکھتا ہوں (۲۲) اس شہر کے رہنے والے مجھ سے محبت رکھتے ہیں ( ۲۳ ) اور مجھے بھی ان